چین میں کورونا کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر 10 کروڑ شہریوں پر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔
کورونا کے درجنوں نئے مریض سامنے آنے کے بعد چین کے شمال مغرب میں واقع جلین شہر کے 44 لاکھ شہریوں کے لیے ووہان جیسے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
گزشتہ روز مقامی طور پر کورنا منتقلی کے 3 کیسز اور ایک موت کے باعث پورے صوبے میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، لاک ڈاؤن کا مطلب ٹرینوں اور بسوں کی بندش، اسکول بند اور لوگ گھروں میں قید ہے۔
تمام ممالک کورونا کی دوسری اور تیسری لہر کے لیے تیار رہیں، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
چین میں کورونا کی دوسری لہر کا آغاز، ہربن شہر میں لاک ڈاؤن نافذ
بلومبرگ سے بات کرتے ہوئے ایک شہری نے کہا ہے کہ ہر کوئی پریشان ہے، ایسے وقت میں جبکہ پورا ملک معمول کی طرف لوٹ رہا ہے، جلین کے متاثرہ ہونے کی کسی کو توقع نہیں تھی۔
ایک ہفتہ قبل شولان شہر میں کورونا کے مریض سامنے آنے پر اسے لاک ڈاؤن کر دیا گیا تھا اور 8 ہزار کے قریب افراد قرنطینہ میں چلے گئے تھے۔
کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے 7 مئی سے اب تک شہر میں 18 مصدقہ کیسز سامنے آئے تھے جس کی وجہ سے ہفتے کے روز صوبائی حکومت نے شولان میں کمیونسٹ پارٹی کے چیف لی پینگ فی سمیت 6 حکومتی عہدیداروں کو برطرف کر دیا تھا۔
اسی طرح ضلع فینگمن میں کورونا کے 12 مریض سامنے آنے کے بعد آج سے اس میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے، اس علاقے میں شہر سے باہر کوئی نہیں جا سکتا، اسکولز، سینما، جم اور ریسٹورنٹس بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
ضلع میں رہائش پذیر افراد کو کہہ دیا گیا ہے کہ گھر کا ایک فرد خریداری کے لیے باہر نکل سکتا ہے، ضلع کی تمام دکانیں اور زیادہ تر سپر مارکیٹس بھی بند کر دی گئی ہیں، طبی عملے کے لیے ٹیسٹ کرنے والی کٹس اور دیگر سامان کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
15 مئی سے جلین کا اسپورٹس کمپلیکس 48 گھنٹوں میں فیلڈ اسپتال میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔