ایک نئی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس صرف سانس کی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ خون کی شریانوں کی بیماری بھی ہے۔
تحقیق کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر کورونا کو خون کی شریانوں کی بیماری قرار دی جائے تو مریضوں کے حرکت قلب بند ہونے، خون جمنے اور دماغ یا گردوں کے مسائل کی وجہ سممجھ آ سکتی ہے اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ڈاکٹرز کورونا مریضوں کا علاج غلط کر رہے ہیں۔
کورونا کس طرح انسانی جسم کو تباہ کرتا ہے؟ ایک برطانوی ڈاکٹر کے مشاہدات
6 ماہ میں کورونا کے متعلق ہم نے کیا سیکھا؟ اگلے 6 ماہ کیسے ہوں گے؟
ڈاکٹر ولیم لی کہتے ہیں کہ کورونا سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں ایک معمہ بن گئی ہیں، ہم نے مریضوں میں خون کا جم جانا، گردوں کے کام چھوڑ دینا، دل کی تکلیف، حرکت قلب بند ہو جانا اور دماغ کا سوج جانا دیکھا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کورونا مریضوں میں ایسے بے شمار مسائل دیکھے ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا اور جو سارس، برڈ فلو یا دیگر وبائی امراض کا شکار ہونے والے افراد میں نہیں دیکھیں۔
برمنگھم کے میڈیکل ڈائرکٹر ڈاکٹر مندیپ مہرا کا کہنا ہے کہ یہ تمام علامات ظاہر کرتی ہیں کہ وائرس غالباً خون کی شریانوں کو متاثر کرتا ہے، یہ صرف نظام تنفس کی بیماری نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ خون کی شریانوں کی بیماری ہے۔
اگر کورونا کو شریانوں کی بیماری سمجھا جائے تو یہ معمہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ شوگر، بلڈ پریشر اور دل کے مریض کیوں کورونا کے باعث موت کا شکار ہو رہے ہیں وگرنہ اس وائرس کو صرف پھیپھڑوں اور نظام تنفس تک محدود رہنا چاہیئے۔
اگر کورونا وائرس کی بنیادی تفہیم کو ازسرنو تشکیل دیا جائے تو یہ اس وبا کے متعلق سائنسی کمیونٹی کا نقطہ نظر تبدیل کر سکتی ہے اور اس سے علاج کی نئی راہیں دریافت ہو سکتی ہیں۔
اب تک طبی عملے کی توجہ وینٹی لیٹرز کی فراہمی پر مرکوز ہے تاکہ متاثرہ پھیپھڑوں والے مریض سانس لے سکیں لیکن زیادہ تر مریضوں کے سانس لینے کے لیے وینٹی لیٹرز بھی ناکافی ہو جاتے ہیں۔
اگر کورونا کو شریانوں کی بیماری کے طور پر لیا جائے تو یہ معمہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ وینٹی لیٹرز پر بھی مریض سانس کیوں نہیں لے پاتے۔
ڈاکٹر لی اور دیگر ریسرچرز نے تحقیق کی ہے جس میں بڑے پیمانے پر اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ کورونا مریضوں کے پھیپھڑوں میں خون کے لوتھڑے جمے ہوتے ہیں۔
انہوں نے میڈیم ویب سائیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خون کی شریانیں جسم میں آکسیجن پہنچانے کے لیے ضروری ہیں، اگر ان میں لوتھڑے موجود ہوں تو چاہے آپ سانس لے بھی رہے ہوں لیکن آکسیجن جسم کے مختلف حصوں میں نہیں پہنچ پاتی اور مریض کو وینٹی لیٹر کا پوری طرح فائدہ ممکن نہیں ہوتا۔
خون کی شریانوں کی بیماری کا علاج نظام تنفس کی بیماری سے مختلف ہوتا ہے، ایک حالیہ تحقیق، جس میں بہت سے ڈاکٹرز نے حصہ لیا ہے، میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خون کی شریانوں کی بیماریوں کے علاج سے مریضوں کے زندہ رہنے کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج کورونا کے علاج سے متعلق وسیع پیمانے پر ہونے والی بحث پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہے، ڈاکٹر مہرا کے مطابق کورونا کا علاج ایسی ادویات سے ممکن ہو سکتا ہے جو شریانوں میں خون کی روانی کو مستحکم رکھتی ہیں۔