وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جولائی کے آخر تک یہ وبا اپنے عروج پر ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں عوام کوسخت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے، احتیاطی تدابیر اختیارنہ کیں تو وقت ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے کورونا ختم نہیں ہوتا لیکن پھیلاؤ کم ہو جاتا ہے، پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کھول دیا گیا ہے، امیر ملک بھی زیادہ دیر لاک ڈاؤن کے اثرات برداشت نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کورونا نے مزید پھیلنا ہے لیکن ہم نے اس کا پھیلاؤ ک م کرنا ہے، کوشش ہے کہ تیزی سے وبا نہ پھیلے تاکہ اسپتالوں پر بوجھ نہ پڑے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ایک لاکھ سے زائد لوگ کورونا وبا کے ہاتھوں موت کا شکار ہو چکے ہیں۔ اگر ہم ایس او پیزپر عمل کریں گے تو حالات پرقابو پا سکتے ہیں، شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہت خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عام لوگ اب بھی کورونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے، انہوں نے ہدایت کی کہ گھر سے باہر نکلیں تو ماسک لازمی پہنیں، اس سے کورونا کا خطرہ 50 فیصد کم ہو جاتا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ پاک نگہبان ایپ لانچ کی گئی ہے جس کے ذریعے آپ معلوم کر سکیں گے کہ کس اسپتال میں بیڈز دستیاب ہیں۔