وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر 12 جون کو وفاقی بجٹ 2020۔21 قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر خزانہ اور ریونیو حفیظ شیخ بھی بجٹ پیش کرنے کے اہل ہیں لیکن ان کا بجٹ پیش کرنے کا انداز بیاں زیادہ بہتر نہیں ہے اور اپوزیشن کا دباؤ برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے جس کا انہیں ممکنہ طور پر بجٹ تقریر کے دوران سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حماد اظہر، جن کا حال ہی میں اکنامک افیئرز ڈویژن سے تبادلہ کر دیا گیا تھا، نے وزیر مملکت کی حیثیت سے وفاقی بجٹ 2019-20 اسمبلی میں پیش کیا تھا اور وزیراعظم عمران خان سے خوب داد بھی سمیٹی تھی۔
وہ حکومت کی معاشی ٹیم کے ایک اہم رکن کے طور پر سامنے رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق ان کو معیشت سے متعلق ہر فیصلہ میں آن بورڈ لیا گیا ہے۔
انھوں نے پاکستان کے لیے ایف اے ٹی ایف کا مقدمہ بھی لڑا اور بین الاقوامی برادری کی باقی شرائط پورا کرنے کے لیے مزید وقت حاصل کیا ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع مشتاق گھمن کی خبر کے مطابق آئی ایم ایف اور عمران خان سے بجٹ کے اعدادوشمار پر باضابطہ منظوری کے بعد حماد اظہر نے اپنی بجٹ تقریر لکھنا شروع کر دی ہے جسے 11 جون کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔