سری نگر: مقبوضہ کشمیر کے ایک اسپتال میں ڈاکٹروں نے کورونا سے متاثرہ حاملہ خاتون کا علاج کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد اس نے کوریڈور میں خود بچے کو جنم دے دیا۔
مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ہوگام گاؤں سے تعلق رکھنے والی خاتون فردوس کی آزمائش کا دور ایک ہفتہ قبل شروع ہوا جب اس میں کورونا کی تشخیص ہوئی اور اسے وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے مختص ضلعی ٹراما سینٹر میں داخل کرا دیا گیا۔
وہ حاملہ تھیں اور بچے کی پیدائش کا وقت بھی قریب تھا۔
تین جون کو چائے پینے کے بعد ان میں درد زہ شروع ہوا، اسپتال کے اس چھوٹے سے کمرے میں کورونا سے متاثر سات اور خواتین بھی موجود تھیں، ان میں سے ایک ڈاکٹر کو بلانے کے لیے دوڑی تو معلوم ہوا کہ اسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔
فردوس نے خوف و ہراسانی کے عالم میں اپنی بہن کو فون کیا اور دوسری مریضوں کے سہارے سیڑھیاں اتر کر نیچے گئی اور ڈاکٹر کی تلاش میں اسپتال سے باہر جانے کا فیصلہ کیا۔
اس نے بتایا کہ اچانک اس کے درد میں اضافہ ہو گیا اور اور اسپتال کے کوریڈور میں ہی لیٹ گئی، دیگر خواتین نے روتے ہوئے اس کے اردگرد حلقہ بنا لیا، ان کا خیال تھا کہ فردوس کا آخری وقت آ گیا ہے، چند منٹ تکلیف برداشت کرنے کے بعد بچے کی پیدائش ہو گئی۔
پیدائش کے بعد بچہ نال کے ساتھ ایک گھنٹے سے زائد جڑا رہا، بار بار بلانے پر بھی کوئی ڈاکٹر نہ آیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیگر خواتین روتے ہوئے نظر آتی ہیں، ویڈیو میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس نے کورویڈور میں ہی بچے کو جنم دیا، اس کا بچہ بہت دیر تک اس کی نال کے ساتھ جڑا رہا کیونکہ اسے کاٹنے کے لیے کوئی بھی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔
اس نے بتایا کہ میں نے فون پر ایک ڈاکٹر کو بتایا کہ ایک مریضہ کی حالت تشویشناک ہے لیکن وہ نہیں آیا، دیگر مرد مریضوں نے ہمیں نال کاٹنے کا کہا لیکن ہم میں سے کسی میں حوصلہ نہ ہوا۔
اس دوران فردوس کے رشتہ دار بھی اسپتال پہنچ گئے اور انہوں نے احتجاج شروع کر دیا جس کے بعد تین ڈاکٹر اور ایک اسپتال کا منتظم نظر آیا۔
فردوس نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے نال کاٹنے کے فوری بعد بچے کو تولیہ میں لپیٹا اور اس کے ساتھ تصاویر کھنچوانا شروع کر دیں۔
ڈاکٹروں نے اسے چھونے سے بھی انکار کر دیا جس کے بعد اسے مزید دیکھ بھال کے لیے سری نگر اسپتال منتقل کیا گیا۔
فردوس کے مطابق اس نے بار بار ڈاکٹروں کو کہا کہ وہ اس کی حالت چیک کریں لیکن وہ اس پر چیخ چلا کر چلے گئے۔
اس کا خاوند اور چھ سالہ بیٹا بھی احتیاطی طور پر قرنطینہ میں تھے، انہیں ایک رشتہ دار نے فون پر صورتحال بتائی، اس نے فوراً اپنی بیوی کا نمبر ملایا جس پر ایک اور خاتون نے بات کی اور کہا کہ فردوس کی حالت خراب ہے۔
اس نے بتایا کہ جونہی میں نے یہ الفاظ سنے مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے سینے میں خنجر گھونپ دیا ہو، اس خیال سے مجھے رونا آ گیا کہ مجھے قرنطینہ ہونے کے باعث اپنی بیوی کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا۔
اننت ناگ میں ڈاکٹروں کی غفلت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، کورونا کا شکار کم از کم دو اور حاملہ خواتین بھی گزشتہ دو ماہ کے دوران زچگی کے وقت جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔
کئی حاملہ عورتوں کو علاج کے لیے سری نگر اسپتال جانا پڑا کیونکہ ضلعی اسپتال نے انہیں داخل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
اننت ناگ کے ڈپٹی کمشنر کے کے سدھا نے انکوائری کا حکم دے دیا ہے تاہم فردوس کے شوہر کو اس سے کوئی امید نہیں ہے۔
اس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر میرے بیٹے کے ساتھ کھنچوائی ہوئی تصاویر پھیلا رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس کی پیدائش کے وقت کوئی مسئلہ نہیں ہوا تھا۔