اسلام آباد: تعزیرات پاکستان میں ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش کیا گیا ہے جس میں بغاوت کی شق حذف کرنا شامل ہے۔
سینیٹر رضاربانی کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں تعزیرات پاکستان سے بغاوت کی شق ختم کرنا بھی شامل ہے، حکومت کی جانب سے علی محمد خان نے بل کی مخالفت کی جس کے بعد اسے متعلق قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔
بل پیش کرتے وقت رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ماضی میں اور اب بھی بغاوت کی شق کو جمہوری قوتوں کے خلاف استعمال کیا گیا ہے، یہ سیاسی اختلاف ختم کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے، اب قوم اور حکمران کا تعلق آقا اور غلام کا نہیں ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ تعزیرات پاکستان کا سیکشن 124 اے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف بغاوت سے متعلق ہے، یہ ہمیں ورثے میں ملنے والی گورننس کے نوآبادیاتی ڈھانچے کا حصہ ہے جو تاحال پاکستان میں موجود ہے۔
بل کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ بغاوت سے متعلق قانون نے ظالمانہ مقبوضہ طاقت کے مقاصد کی تکمیل کی، آج اس سیکشن کو سیاسی اختلافات کو کچلنےکے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ بغاوت سے متعلق سیکشن کو عوام کو حق سوالات سے محروم کر کے اپنے تابع لانا ہے، حکومت کے لیے عوام کے احترام کو ضابطوں کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔
رضا ربانی نے بل میں کہا ہے کہ حکومت کے لیے احترام ، آزادی اظہار رائے اور حکومت کرنے کی صلاحیت سے پیدا ہوتا ہے، آج ملک میں حکمرانوں اور عوام کا تعلق آقا اور غلام کا نہیں ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملک میں مکمل آزادی اظہار رائے کی اجازت نہیں ہے، اگر یہ بل منظور ہوا تو لوگوں کو سب کچھ کرنے کی اجازت مل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کی سالمیت، تشخص اور دیگر ممالک سے دوستانہ تعلقات کو بھی یقینی بنانا ہے، اس وقت پاکستان کی عدلیہ، افواج اور دو قومی نظریہ کے خلاف باتیں سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں ففتھ جنریشن وار فیئر چل رہی ہے جس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔