سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامے میں کہا ہے کہ حکومت کے جاری کردہ احکامات کے ذریعے کچھ بنیادی حقوق کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے کورونا وبا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم واپس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت کورونا کے خاتمے کے لیے قانون سازی کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے۔
عدالت نے ہدایات جاری کی ہیں کہ حکومت کورونا کے خاتمے اور سینیٹری ورکرز کے تحفظ کے لیے قانون سازی کو یقینی بنائے۔ تمام حکومتیں سینیٹری ورکرز کو حفاظتی سامان کی فراہمی یقینی بنائیں۔ عدالت نے این ڈی ایم اے سے طبی سامان کی تیاری کے لیے مشینری درآمد کرنے کا ریکارڈ اور تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ ترکی سے ٹڈی دل اسپرے کے لیے جہاز لیز پر لینے کا ریکارڈ طلب کرنے سمیت ٹڈی دل حملوں سے نقصانات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
پاکستان میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 3 ہزار اور اموات 2 ہزار سے تجاوز کر گئیں
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کورونا وائرس کا شکار
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، اب وقت نہیں رہا، ایک لاکھ سے زائد کورونا مثبت کیس آگئے ہیں، مرضی سے نہیں قانون سے کام ہوگا، این ڈی ایم اے کو مرضی سے کام کرنے کا لائسنس نہیں ملا ہوا، اس کی ایک ایک چیز کا آڈٹ کرائیں گے۔
سماعت سے قبل سپریم کورٹ میں کوونا ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والا بینچ تبدیل ہوا۔ کاز لسٹ کے مطابق پانچ رکنی لارجر بینچ میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ نئے بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس قاضی امین احمد اور جسٹس مظاہر علی نقوی شامل ہیں۔ اس سے قبل جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر علی نقوی کی جگہ جسٹس مشیر عالم اور جسٹس طارق مسعود تھے۔
کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات کے حوالے سے از خود نوٹس کیس کی سماعت آج چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت کورونا تحفظ کے اقدامات کر رہی ہے اور اب ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائیگا۔
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے تاحال کورونا سے تحفظ کی قانون سازی نہیں کی جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے تاہم چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ کورونا سے تحفظ کے لیے قومی سطح پر کوئی قانون سازی ہونی چاہیے، قومی سطح پر قانون سازی کا اطلاق پورے ملک پر ہو گا، ملک کے تمام ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نہیں معلوم کورونا مریضوں کی تعداد کہاں جا کر رکے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں ہوا، چین میں وباء سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے۔
جسٹس جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ کورونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے، وفاقی حکومت کو اس معاملے پر لیڈ رول ادا کرنا چاہیے، وفاقی حکومت کورونا سے بچاؤ کے لیے قانون سازی کرے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ عدالت لوگوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے، لوگوں کی زندگی کا تحفظ سب سے بڑا بنیادی حق ہے، موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کا تحفظ نہیں ہو گا، عوام کا تحفظ قانون کے بننے اور اس پر عمل سے ہو گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ وقت سب سے بڑا اثاثہ ہے، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا، ایک لاکھ سے زائد کورونا مثبت کیس آ گئے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کے حکم کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ عید کے موقع کے لیے ہفتہ اتوار کو مارکیٹس کھولی گئی تھیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ عید کے موقع پر لوگوں نے ایس او پیز کو نظر انداز کر دیا، لوگوں میں تاحال آگہی نہیں آئی، ویکسین کی دریافت سے قبل راستہ احتیاطی تدابیر ہیں، کورونا کا وائرس بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے، شہریوں کو بھی ذمہ داری دکھانا ہوگی۔
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں حکومت کو قانون سازی کی تجویز دوں گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم تو پہلے دن سے فنکشنل ہیں، عدالتیں بند نہیں کر سکتے۔
انہو ں نے استفسار کیا کہ سینٹری ورکز گندے گٹر صاف کرتے ہیں ان کے لیے حفاظتی اقدامات کیا ہیں، کس طرح سے ایس او پیز پر عمل ہو گا۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ پولیس والوں کو دکانداروں اور خریداروں سے پیسے لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید استفسار کیا ہے کہ کورونا کے کتنے ٹیسٹ سرکاری اور کتنے نجی لیب نے کیے۔
ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے کہا کہ یہ تمام تفصیلات صرف وزارت صحت دے سکتا ہے، ہمارا کام لیب کو طبی سامان فراہم کرنا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اب تک کورونا کے کتنے ٹیسٹ مفت کیے گئے ہیں جس پر ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے کہا کہ حکومت کورونا کے ٹیسٹ مفت کر رہی ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ بیرون ممالک میں تو اب ہر شہری کا ٹیسٹ ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چین نے پاکستان کو کتنے وینٹیلیٹرز عطیہ کیے ہیں جس پر ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے بتایا کہ چین نے 100 وینٹیلیٹرز عطیہ کیے ہیں، این ڈی ایم اے نے 14 سو وینٹیلیٹرز بیرون ممالک سے خریدے ہیں، تین سو وینٹیلیٹرز باہر سے آ چکے ہیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پاکستان میں وینٹیلیٹرز کون تیار کر رہا ہے جس پر ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے بتا یا کہ پی او ایف واہ، ڈسکو، اور نجی صنعت وینٹیلیٹر بنا رہے ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مرضی سے نہیں قانون سے کام ہوگا، این ڈی ایم اے کو مرضی سے کام کرنے کا لائسنس نہیں ملا ہوا، این ڈی ایم اے کی ایک ایک چیز کا آڈٹ کرا لیں گے، دیکھیں گے کس نے کورونا وائرس میں کیا کیا۔
دوران سماعت ٹڈی دل کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چار ماہ سے ٹڈی دل موجود ہے دو مرتبہ افزائش کر چکی ہے، ٹڈی دل پر اسپرے کیلیے چار جہاز فعال نہیں ہیں جہاز کے پائلٹ نہیں تھے تو یہ چار جہاز کہاں سے آ گئے، ہمارے اپنے جہاز نہیں چل رہے باہر سے لا کر اسپرے کیا جا رہا ہے، سکھر میں ایک جہاز کھڑا ہے تیز ہوا چلی تو وہ جہاز اڑ جائے گا۔
چیف جسٹس نے ٹڈی دل کے معاملے پر این ڈی ایم اے سے استفسار کیا کہ اب تک کیا کیا گیا ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ ٹڈی دل کے حملے فوڈ سکیورٹی کو بھی متاثر کریں گے۔
ممبراین ڈی ایم اے نے بتایا کہ ٹڈی دل کے سپرے کے لیے ترکی سے جہاز لیز پر لیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسپرے کے لیے جہاز لیز پر کیوں لیا گیا، کیا پاکستان میں اسپرے کے لیے جہاز لیز پر نہیں مل سکتا، کیا جہاز لیز پر لینے کے لیے ٹینڈر دیا گیا، نہیں معلوم ترکی سے جہاز لیز پر لے کر کس نے فائدہ اٹھایا۔
ممبر لیگل این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ترکی سے جہاز ایمرجنسی بنیادوں پر لیا گیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ٹڈی دل کے حملوں سے فوڈ سیکیورٹی کو کتنا نقصان ہوا، نقصان کے نتیجے میں باہر سے فوڈز منگوانے پر کتنے اخراجات آئیں گے۔
جسٹس مظاہر علی نقوی نے استفسار کیا کہ کیا حکومت ٹڈی دل سے لڑنے میں سنجیدہ ہے؟ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا این ڈی ایم اے ٹڈی دل کے پیچھے بھاگ رہا ہے، این ڈی ایم اے کو ٹڈی دل کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے، ہم نے ٹڈی دل کو بچپن میں دیکھا تھا یا اب دیکھ رہے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت دوہفتوں تک ملتوی کر دی۔
