سعودی حکام نے کورونا وبا کے پیش نظر رواں برس حج کی ادائیگی منسوخ کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
برطانوی اخبار فائنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے اور مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ایک ہفتے میں آخری فیصلہ کر لیا جائے گا۔
فریضہ حج کی ادائیگی اس برس جولائی کے آخر میں ہونی ہے تاہم سعودی عرب میں کورونا وبا کی شدت کی وجہ سے اسے منسوخ کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔
کورونا وبا کے دوران سعودی عرب میں طلاقوں کی شرح میں 30 فیصد اضافہ
جیل میں قید سعودی بادشاہ کی بھتیجی کا اپنی رہائی کے لیے خط سامنے آ گیا
سعودی عرب میں پابندیوں کا خاتمہ اور ملازمت کی تلاش میں نکلی خواتین کا سیلاب
سعودی عرب میں اب تک ایک لاکھ سے زائد کورونا کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، 1932 میں موجودہ سعودی حکومت کے قیام کے بعد حج کی منسوخی کا واقعہ پہلی بار ہو گا۔
20 لاکھ سے زائد حجاج کرام ہر سال سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں، یہ دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے تاہم اس بار مختصر تعداد کو حج کی اجازت دینے کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اسلامی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ حج سعودی عرب کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے، رائٹرز کے مطابق اس سے حکومت کو ہر سال 12 ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔
سعودی عرب میں مارچ میں کورونا کی شدت بڑھنا شروع ہوئی جس کے بعد حکومت نے دیگر ممالک کو حج کی تیاریاں روکنے اور عمرہ کی ادائیگی ملتوی کرنے کا کہہ دیا تھا۔
عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق کئی سعودی حکام حج کو رواں برس منسوخ کرنے پر زور دے رہے ہیں، دو حکام نے ایجنسی کو بتایا کہ حکومت اس بات پر بھی سوچ رہی ہے کہ علامتی طور پر مختصر تعداد کو حج کرنے کی اجازت دی جائے، اس میں بھی بڑی عمر کے افراد پر پابندی کے ساتھ ساتھ دیگر احتیاطی تدابیر کی جا سکتی ہیں۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ ہر ملک کے متعین کوٹے میں سے صرف 20 فیصد افراد کو حج کی اجازت دی جائے۔
یاد رہے کہ انڈونیشیا اس سال اپنے شہریوں کو حج پر جانے سے روکنے کا اعلان کر چکا ہے، ان کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کسی قسم کی یقین دہانی کرانے میں ناکام رہی ہے اس لیے شہریوں کو حج پر جانے کی اجازت نہیں ہو گی، ملک بھر سے ہر سال 2 لاکھ 20 ہزار کے قریب افراد حج کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں۔
بھارت کی حج کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس برس حج کا امکان بہت کم ہے، بھارت سے ہر برس 2 لاکھ کے قریب افراد فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔
اسی طرح سنگاپور نے بھی حج کے لیے اجازت ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔