تمام جاندار اپنی بقاء کے لیے خود کو ماحولیاتی نظام کے مطابق بدلتے اور اس سے مطابقت پیدا کرتے رہتے ہیں۔ کئی ماہ سے سائنس دان اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا کورونا وائرس بھی خود کو بدل رہا ہے اور اپنی پھیلنے کی صلاحیت کو بڑھا رہا ہے اور یہ کہ کیا یہ زیادہ مہلک ہوتا جا رہا ہے؟
اب تک سامنے آنے والے شواہد آدھے سوال کے ابتدائی جواب پر روشنی ڈال رہے ہیں۔ ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ وائرس اپنی ہیئت تبدیل کر چکا ہے اور اس کی غالب شکل زیادہ سے زیادہ انسانی خلیوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔
تاہم یہ سوال ابھی باقی ہے کہ وائرس میں آنے والی تبدیلی نے وبا کے پھیلاؤ کو کس طرح تبدیل کیا ہے اور یہ بات بھی غیر واضح ہے کہ یہ تبدیل شدہ وائرس زیادہ مہلک ہے یا نہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
کورونا وائرس اپنی ساخت بدل کر ویکسین کی تیاری مشکل بنا سکتا ہے، نئی تحقیق
6 ماہ میں کورونا کے متعلق ہم نے کیا سیکھا؟ اگلے 6 ماہ کیسے ہوں گے؟
اس وبا کے پھوٹنے کے فوری بعد ہی سائنسدانوں نے کورونا وائرس میں پائے جانے والے جینوم کی ترتیب میں تبدیلی کے پیٹرنز کو دیکھنا اور ان پر تحقیق کرنا شروع کر دی تھی۔
کورونا کے جینوم پر کام کرنے والے ریسرچرز نے جس پہلی تبدیلی یا تغیر کو نوٹس کیا اسے D614G کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اٹلی اور دوسرے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے سے پہلے یہ پہلی بار فروری میں ایک نادر شکل کی صورت میں سامنے آیا۔ ریسرچرز کی ٹیم نے جلد ہی اس وائرس کے جینوم میں پہلی تبدیلی کا پتہ لگا لیا۔
یہ تغیر اس وائرس کے بیرونی سطح پر سپائیک نما پروٹین کو متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے اس کا نام کورونا وائرس رکھا گیا۔ کورونا لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب” تاج یا ہالہ” ہے۔ وائرس کی زندگی میں سپائیک کی خاص اہمیت ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسا میکنزم ہے جو وائرس کو انسانی خلیے کے ساتھ منسلک کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس کے بعد اس خلیے کو متاثر کرنا شروع کر دیتا ہے۔
ریسرچرز کا اندازہ ہے کہ وائرس میں اس تبدیلی کے بعد اس میں ناک کی جھلیوں اور آنکھوں کے ساتھ مضبوطی سے چپکنے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کورونا میں تبدیلی کا عمل اب رک چکا ہے؟ اس کا جواب نہیں میں ہے، شمالی مشرقی چین میں ڈاکٹروں نے نوٹس کیا ہے کہ نئے سامنے آنے والے کیسز میں وائرس زیادہ دیر تک مریض کے اندر رہتا ہے اور ٹیسٹ منفی آنے میں زیادہ وقت لیتا ہے۔
انھوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ انفکشن کے بعد علامات ظاہر ہونے میں بھی زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ ایسے لوگ جو وائرس کو زیادہ عرصہ تک لیے ہوئے ہوں، ان سے دوسروں کے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس تبدیلی کے لیے بائیو کیمیکل کی بنیاد کو سمجھنا دلچسپ ہو گا۔
سی این این میں شائع اس آرٹیکل کے مطابق ریسرچرز کا کہنا ہے کہ جس طرح ایچ آئی وی ون اور انفلوئنزا جیسے وائرس اپنی شکل تبدیل کرتے رہے ہیں، اسی طرح کورونا کے معاملے میں بھی ہم جانتے ہیں کہ ہمیں ایسے دشمن کا سامنا ہے جو مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور اس وجہ سے یہ بدترین دشمن ثابت ہو رہا ہے۔ اس لیے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں آنے والے وقت میں جراثیم کے خلاف طویل جنگ لڑنی ہے۔
گزشتہ ماہ کورونا وائرس کی پروٹین کی ایک تبدیل شدہ شکل کے متعلق دو تحقیقی مقالے سامنے آئے ہیں، اس پروٹین کا نام orf3b جین ہے اور یہ وائرس کے خلاف ہمارے مدافعاتی نظام کو دبانے کا کام کرتا ہے۔
اس پروٹین کی ایک تبدیل شدہ شکل اپنی اصل سے کہیں زیادہ کورونا پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کورونا وائرس اب تک 76 لاکھ افراد کو متاثر کر چکا ہے، ایک شخص سے شروع ہونے والے وائرس کو اتنی بڑی تعداد تک پہنچنے میں صرف چھ ماہ لگے ہیں۔
اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کورونا وائرس کے خود کو بدل کر انسانی جسم سے مطابقت پیدا کرنے کے 76 لاکھ امکانات ہیں، اب تک کی تحقیق سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ وائرس خود کو تبدیل کرنے کا کام بہترین انداز میں کر رہا ہے۔