بھارت میں بدھ کے روز کورونا کے 16 ہزار نئے مریض سامنے آئے ہیں جو ملک بھر میں ایک ہی دن میں متاثر ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، حکومت نے دارالحکومت دلی میں مریضوں کے علاج کے لیے نئے سینٹرز کا انتظام سنبھالنے کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔
بھارت میں اب تک 4 لاکھ 56 ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جس کے بعد بھارت مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر آ گیا ہے، امریکہ، برازیل اور روس کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک ہیں۔
بھارت میں مردوں کی نسبت خواتین میں کورونا کے باعث موت کی شرح زیادہ کیوں ہے؟
بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال
ملک بھر میں کورونا کے باعث اموات کی تعداد 14 ہزار 634 ہو چکی ہے، مریضوں کی تعداد پہلے ممبئی شہر میں زیادہ تھی لیکن اب دلی اس سے آگے بڑھ گیا ہے، دلی میں اب تک 70 ہزار مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
ملک بھر میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے بعد کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا جو درست ثابت ہوا ہے اور ہر روز گزشتہ دن سے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔
2 کروڑ آبادی پر مشتمل دلی شہر میں بھی کورونا مریضوں میں آج بڑا اضافہ دیکھا گیا اور ایک ہی دن میں 3900 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
مقامی حکومت کے ڈیٹا کے مطابق شہر کے اسپتالوں میں کورونا کے لیے مختص کیے گئے 13 ہزار 400 بیڈز میں سے 6 ہزار 200 پر مریض موجود ہیں۔
وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق اگلے ہفتے تک شہر میں قائم کئے گئے عارضی اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے 20 ہزار اضافی بیڈز کا انتظام مکمل ہو جائے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ فوجی اہلکاروں کو ریلوے کوچز میں موجود مریضوں کو میڈیکل کیئر فراہم کرنے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
شہری انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ جولائی کے اختتام پر دلی میں کورونا کے ساڑھے 5 لاکھ مریض ہوں گے جن کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار بیڈز کی ضرورت ہو گی۔