ایسے وقت جبکہ چین اور بھارت کے درمیان وادی گالوان میں کشیدگی جاری ہے اور گزشتہ دنوں جھڑپوں میں 20 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک بھی ہو چکے، چین نے ایک اور محاذ کھول دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد چینی فوجی ڈیپ سانگ کے علاقے میں 18 کلومیٹر آگے بڑھ گئے ہیں جہاں انہوں نے بھارتی فوجیوں کو گشت کرنے سے روک دیا ہے، یہ جگہ دولت بیگ اولدی کے اہم فضائی اڈے سے 30 کلومیٹر کے فاصلے ہے۔
چین اور بھارت کی فوجوں میں لڑائی، ایک کرنل سمیت 20 بھارتی فوجی ہلاک
وادی گالوان میں فوجی جھڑپ، چین نے واقعات کی مکمل تفصیل بتا دی
بھارتی میڈیا کے مطابق چین نے بھاری فوجی گاڑیاں اور خصوصی فوجی سازوسامان سمیت نقل و حرکت کی ہے، دولت بیگ اولڈی سیاچن گلیشر پر سپلائی کا اہم ذریعہ ہے۔
اپریل 2013 میں بھی چینی فوج اسی علاقے میں پہنچ گئی تھی اور خیمے گاڑ لیے تھے، تین ہفتوں کی کشیدگی کے بعد مذاکرات کے نتیجے میں چینی فوجی واپس چلے گئے تھے۔
اس علاقے کو دونوں ممالک اپنا حصہ قرار دیتے ہیں، چین کا دعویٰ ہے کہ مزید 5 کلومیٹر علاقہ اس کی ملکیت ہے جبکہ بھارت اسے اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔
یہ جگہ لداخ کے ایک قصبے سے 7 کلومیٹر دور ہے جہاں بھارت کی ایک فوجی چوکی موجود ہے۔
اس سے قبل ہمالیہ کی بلند چوٹیوں پر چین اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپ ہوئی تھی جس میں 20 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لاو جیان ژاو نے عالمی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے دو مرتبہ سرحد عبور کی جس کی وجہ سے دونوں افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی۔