گوجرانوالہ میں پولیس نے خواتین کے ریڈی میڈ کپڑوں کی دکان کے مالک باپ بیٹے کو گرفتار کیا ہے جن پر دکان کے اندر ٹرائی روم میں خفیہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرکے خواتین کی برہنہ ویڈیوز بنانے اور انہیں بلیک میل کرنے کا الزام ہے, تھانہ سیٹلائٹ ٹائون پولیس نے ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 354، 294 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے
یہ مقدمہ محلہ محمد نگر جناح روڈ کے رہائشی ایک شہری فیضان حنیف کی درخواست پر درج کیا گیا جس نے پولیس کو بیان ریکارڈ کرایا کہ اس کی بہن (س) سیٹلائٹ ٹائون مارکیٹ میں واقع نایاب سوٹنگ سنٹر پر سلے ہوئے کپڑے خریدنے گئی تو دکان کے مالک شیخ اسلم اور اس کے بیٹے شیخ عمر نے اسے کپڑے چیک کرنے کے لیے دکان کے اوپر والے حصے پر موجود ٹرائی روم میں بھیج دیا، جہاں مبینہ طور پر ملزمان نے خفیہ کیمرے لگائے ہوئے تھے
فیضان حنیف کے مطابق اس کی بہن نے کپڑے تبدیل کرتے وقت کیمروں کو دیکھ لیا اور موقع پر جھگڑا بھی کیا اور کپڑے تبدیل کرتے ہوئے کی برہنہ ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کو کہا لیکن دکاندار کا کہنا تھا کہ تمہاری پہلے بھی برہنہ ویڈیوز ہمارے پاس موجود ہیں جنہیں ہم وائرل کرسکتے ہیں، یوں انہوں نے خاتون کو بلیک میل کرکے ایک لاکھ 20 ہزار روپے وصول کئے لیکن ویڈیو ڈیلیٹ نہ کی۔
سی پی او گوجرانوالہ گوہر مشتاق بھٹہ نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے شہری فیضان کی درخواست پر تحقیقات کیں اور دکان کا سی سی ٹی وی ریکارڈ چیک کیا تو خواتین کی کپڑے بدلنے کی ویڈیو کلپس ریکارڈ میں موجود پائی گئیں جس پر پولیس نے دکان کے مالک باپ بیٹے کو فوری گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ۔
گوجرانوالہ پولیس کے ترجمان محمد عمران کے مطابق نازیبا ویڈیو بنانے کی ایک ہی درخواست موصول ہوئی ہے جس پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ، کسی اور متاثرہ خاتون یا اس کے عزیز کی طرف سے کوئی اور درخواست موصول نہیں ہوئی، اگر مزید کوئی متاثرہ خاتون مقدمہ درج کروانا چاہے تو وہ رابطہ قائم کرسکتی ہے۔