عدلیہ اور جج صاحبان کے خلاف تضحیک آمیز ویڈیو کے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا، اس ادارے نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیے۔
آغا افتخارالدین ویڈیو کیس میں اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟
شوہر کو قتل کی دھمکی: قاضی عیسیٰ کی اہلیہ نے پولیس کو درخواست دے دی
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے تھانے میں درخواست دی ہے اور پولیس نے معاملہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو بھیج دیا ہے جس نے الیکٹرانک کرائم کے تحت کارروائی شروع کر دی ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی اے کچھ نہیں کر رہا، اس کے پاس ججز کے دیگر معاملات بھی ہیں، اس ادارے نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیے۔
عدالت نے مولوی افتخار الدین مرزا کو نوٹس جاری کردیا جب کہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھی 2 جولائی کو طلب کر کے سماعت اسی روز تک ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں افتخارالدین نامی شخص اپنی تقریر میں عدلیہ کے متعلق نازیبا زبان استعمال کر رہا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست جمع کرائی تھی جس میں اس ویڈیو کو اپنے شوہر کے خلاف سازشوں کا سلسلہ قرار دیا۔
اپنی درخواست میں انہوں نے لکھا کہ سپریم کورٹ کے جج کو قتل کرنے کی دھمکی دہشتگردی کی بدترین قسم ہے اور طاقتور حلقے میرے شوہر سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔