• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 29, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

کورونا کی علامات پر وسیع پیمانے پر کی گئی تحقیق کے نتائج سامنے آ گئے

by sohail
جون 26, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا پر وسیع پیمانے پر ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل کھانسی اور بخار اس بیماری کی سب سے بڑی علامتیں ہیں، دیگر علامات میں تھکاوٹ، سونگھنے کی صلاحیت سے محرومی اور سانس لینے میں تکلیف شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے وبا کے ابتدا میں کورونا کی جو علامات بتائی تھیں، یہ تحقیق ان تمام کی توثیق کرتی ہے۔

کونسی علامت کتنے فیصد افراد میں پائی گئی؟

یہ اپنی نوعیت کی ایک بڑی ریسرچ ہے جو اس نئے کورونا وائرس کی علامات پر کی گئی ہے، اس کے مطابق 78 فیصد مریضوں میں بخار تھا مگر اس کی شرح مختلف ممالک میں ایک جیسی نہیں تھی۔ سنگاپور میں 72 فیصد مریضوں میں بخار موجود تھا جبکہ کوریا میں یہ شرح صرف 32 فیصد تھی۔

ریسرچ کے مطابق 57 فیصد مریضوں کو کھانسی کا مسئلہ درپیش رہا، اس میں بھی ممالک کا فرق شرح میں تبدیلی کا باعث بنا، ہالینڈ میں 76 فیصد مریضوں میں کھانسی رہی جبکہ کوریا میں یہ شرح 18 فیصد تھی۔

کورونا کی علامات کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، نئی تحقیق میں انکشاف

کورونا وائرس کی نئی علامات سامنے آ گئیں، کل تعداد 9 ہو گئی

31 فیصد مریضوں کو تھکاوٹ کا سامنا رہا، 25 فیصد کی سونگھنے کی صلاحیت ختم ہوئی اور 23 فیصد کو سانس لینے میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

ریسرچرز کا خیال ہے کہ مختلف ممالک میں علامات کی شرح میں فرق کی وجہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کا مختلف طریق کار ہے۔

اسپتال جانے والے مریض

اسپتال جانے والے مریضوں میں 17 فیصد کو سانس لینے کے لیے کسی مشین کی ضرورت نہیں پڑی، 19 فیصد کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رہنا پڑا، 9 فیصد کو مصنوعی نالیوں کی ضرورت پڑی اور 2 فیصد کو مصنوعی پھیپھڑے کے ذریعے سانس فراہم کی گئی۔

لیڈز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ کے سرجن رکی ویڈ کا کہنا ہے کہ اس ریسرچ کی بہت اہمیت ہے کیونکہ جن افراد میں یہ علامات پائی جائیں انہیں فوری طور پر الگ تھلگ ہو جانا چاہیئے تاکہ وہ دوسرے افراد کو متاثر نہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ریسرچ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ہم وبا کی علامات پہچاننے میں درست رستے پر گامزن ہیں، اس سے ہمیں اس بات کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کن افراد کو ٹیسٹ کرنا ضروری ہے۔

اس تحقیق میں یونیورسٹی آف لیڈز، یونیورسٹی آف شیفیلڈ، یونیورسٹی آف برسٹل، امپیریل کالج لندن اور بیلجیم کینسر سنٹر کے سائنسدان شامل تھے۔

Tags: Corona symptomsCoronavirusکورونا وائرسکورونا وائرس کی علامات
sohail

sohail

Next Post

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن انتقال کر گئے

بھارت کی 16 سالہ ٹک ٹاک اسٹار نے خودکشی کر لی

ٹک ٹاک نے کاروباریوں کے لیے نیا پلیٹ فارم لانچ کر دیا

افسوس حکومت کوئی کام نہیں کر رہی، معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے، چیف جسٹس

جون کے آخر تک خدشات سے بہت کم کورونا مریض سامنے آ سکتے ہیں، اسد عمر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In