• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعہ, اپریل 17, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

افسوس حکومت کوئی کام نہیں کر رہی، معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے، چیف جسٹس

by sohail
جون 26, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سپریم کورٹ میں نجی ادویہ ساز کمپنی کی جانب سے قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں ادویات سازوں کا بہت بڑا مافیا ہے، حکومت خود کچھ کرتی نہیں، فیصلے کرنے کے لیے معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے،

لوگوں کو بڑی امید تھی اس لیے تبدیلی لائے، چیف جسٹس

ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا، اس نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیے، چیف جسٹس

انہوں نے کہا کہ حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے اور اس میں فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا وفاقی کابینہ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کوئی فیصلہ کیا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ کابینہ نہیں ٹاسک فورس کو بھیجا گیا تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے ٹاسک فورس فیصلہ کرنے کے بجائے معاملے پر بیٹھ ہی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آخر کر کیا رہی ہے، حکومت کو معلوم ہی نہیں کہ کرنا کیا ہے، حکومت صرف کاغذی کارروائی کرتی ہے، فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں، حکومت خود کچھ کرتی نہیں فیصلے کرنے کیلئے معاملہ ہمارے گلے ڈال دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادویات کمپنیاں ہوں یا خریدار سب ہی غیر یقینی صورتحال میں رہتی ہیں، ادویہ ساز کمپنیاں خام مال خریداری کے نام پر سارا منافع باہر بھیج دیتی ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ حکومت کوئی کام نہیں کر رہی، ڈریپ کہتی ہے مٹھی گرم کرو تو سارا کام ہوجائے گا، حکومت خود فیصلہ کرتی نہیں اور ہائی کورٹ کے فیصلے چیلنج کرتی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نجی کمپنی نے باسکوپان نامی دوائی مارکیٹ سے غائب کر رکھی ہے، دوائی کی قیمت پوری نہ ملے تو مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہے، نجی کمپنی نے آٹھ دوائیوں کی قیمت بڑھائی، ڈریپ نے ایکشن لیا تو سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع دے دیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ڈریپ بروقت فیصلہ نہ کرے تو مقررہ مدت کے بعد ازخود قیمت بڑھ جاتی ہے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

Tags: سپریم کورٹ آف پاکستانمہنگی ادویات کیس
sohail

sohail

Next Post

جون کے آخر تک خدشات سے بہت کم کورونا مریض سامنے آ سکتے ہیں، اسد عمر

مفتی نعیم، طالب جوہری اور منور حسن کورونا کا شکار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ کا انکشاف

حامد میر کا سوشل میڈیا پراپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ

ایک 26 سالہ لڑکی نے اپنے جگر کی 100ویں سالگرہ کیوں منائی؟

ڈنمارک کی وزیراعظم کی شادی تیسری بار ملتوی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In