پاکستان میں صحافت کئی اعتبار سے زیر عتاب رہی ہے اور گزشتہ دو سے تین سالوں کو میڈیا کے لیے پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور قرار دیا جا رہا ہے جہاں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اس میں سب سے بدصورت مگر وسیع پیمانے پر ہونے والا طریقہ سوشل میڈیا پر منظم گروہوں کے ذریعے ٹرینڈز بنا کر تنقید کرنے والے صحافیوں کی کردار کشی ہے۔
اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے حامی سوشل میڈیا صارفین نے مختلف گروپس بنا رکھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر سب سے زیادہ موثر گروپ ‘پی ایم اپ ڈیٹس اینڈ ریبٹلز’ کے نام سے ہے جہاں حکومت کے حامی یوٹیوبرز موجود ہیں، انہیں یہ ٹاسک دیا جاتا ہے کہ حکومت مخالف حقیقی و دستاویزات پر مبنی خبروں کو توڑ مروڑ کر اور متنازعہ بنا کر یوٹیوب پر پیش کیا جائے۔
اس کے بعد ان کے مختصر کلپ بنا کر وائرل کیے جاتے ہیں تاکہ عوام سینئر صحافیوں کی خبروں کو جھوٹ سمجھیں۔ اسی طرح کے دیگر گروپس میں سینئر صحافیوں کی کردار کشی کے لیے ٹویٹرٹرینڈز اور یوٹیوب پر ویڈیو اپلوڈ کرنے کے لیے ہدایات دی جاتی ہیں۔
ان گروپس میں ایسے حکومتی افراد شامل ہیں جو حامد میر جیسے سینئر صحافیوں کو متواتر متنازعہ بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں۔
ابھی صحافیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تھما نہیں تھا کہ افتخار الدین مرزا نامی شخص کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں انہوں نے تقریر کرتے ہوئے عدلیہ اور ججوں کے خلاف انتہائی نامناسب جملے بولے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا نام لیکر کہا کہ ان جیسے لوگوں کو فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے مار دینا چاہیے۔
اسی ویڈیو کے آخر میں صحافت پر تنقید کی گئی اور دو سینئر صحافیوں محمد مالک اور حامد میر کی تصویریں ایڈیٹ کر کے لگائی گئیں۔
اس ویڈیو پر جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف آئی آر درج کرانے کے لیے تھانہ سیکرٹریٹ میں درخواست درج کرائی جبکہ چیف جسٹس گلزاراحمد نے سوموٹو نوٹس لیکر اس کی آج سماعت کی۔
سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں حامد میر بھی موجود تھے جنہوں نے باہر نکل کر دیگر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اس متنازعہ ویڈیو پر لیے جانے والے سوموٹو میں پارٹی بننے کی درخواست دیں گے۔
حامد میر کی نمائندگی ایڈووکیٹ جہانگیر جدون کریں گے۔ ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے نقارخانہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آج سو موٹو کیس پر ہونے والی پہلی سماعت کا تحریری حکمنامہ موصول ہونے کے بعد درخواست تیار کر کے دائر کی جائے گی۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ متنازعہ ویڈیو میں میری اور سینئر صحافی محمد مالک کی تصویریں لگائی گئیں اور ہمیں بھی بدنام کیا گیا جسکی تصدیق جسٹس اعجاز الاحسن اور اٹارنی جنرل نے بھی کورٹ میں کی۔
انہوں نے کہا کہ جب میں کورٹ سے باہر نکلا تو افتخار الدین کے وکیل اور ان کے بیٹے میرے پاس آئے اور بیٹے نے اپنے والد کی طرف سے معافی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ میں کیس میں پارٹی نہ بنوں۔
حامد میر نے ان سے سوال کیا کہ ان کے والد کی ویڈیو کو ایڈیٹ کس نے کیا اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کس نے کیا، جس پر کافی دیر بحث ہوتی رہی۔
حامد میر کے مطابق اس سازش کے پیچھے وہی لوگ ہیں جنہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس تیار کرا کر فائل کرایا اور انکی جاسوسی کرتے رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہی لوگوں نے ہی مولوی کی ویڈیو کو ریکارڈ کیا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔