یہ کہانی ایک ایسی ترک لڑکی کی ہے جو جگر کی بیماری میں مبتلا تھی۔ یہ ایک مایوس کُن صورتحال تھی کیونکہ اسے جگر ٹرانسپلانٹ کی اشد ضرورت تھی۔ منتظر افراد کی فہرست میں رہتے ہوئے اس کے اندر ہپپاٹک انسیفالوپیٹی جیسا زہریلا مادہ پیدا ہو چکا تھا جو اس کے دماغ کو متاثر کرنے لگا تھا۔
ڈاکٹروں کے پاس انتطار کرنے کا زیادہ وقت نہ تھا کیونکہ لڑکی کا جگر مکمل طور پر بند ہونا شروع ہو گیا تھا۔ وقت گزرتا جا رہا تھا اور ڈاکٹرز کے پاس واحد آپشن ایک ایسے جگر کی دستیابی تھی جسے دوسرے اسپتالوں نے اچھی حالت میں نہ ہونے کے باعث پہلے ہی مسترد کر دیا تھا۔
ساتھ ساتھ اس جگر کے اندر ایک کرسٹل یا سیسٹ بھی بن چکی تھی جس کی وجہ سے یہ جگر ٹرانسپلانٹ کے وضع کردہ معیار کے مطابق پرانا تھا۔ اس کی سابقہ مالک 93 سالہ خاتون اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی۔ ان وجوہات کی بنا پر طبی لحاظ سے یہ جگر ایک کم عمر لڑکی کے لیے ٹرانسپلانٹ کے قابل نہ تھا۔
لیکن وقت کی کمی اور کسی اور آپشن کی عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹروں نے اسی کو ٹرانسپلانٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ حیران کن طور پر یہ سرجری جو 2008 میں ترکی کی انونو یونیورسٹی کے لیور ٹرانسپلانٹیشن انسٹیٹیوٹ میں کی گئی تھی ایک کامیاب تجربہ ثابت ہوئی اور اس ترک لڑکی کی جان بچ گئی۔
جگر ٹرانسپلانٹ کے چھ سال بعد اس نے ایک صحت مند بچی کو جنم دیا۔ اب اس لڑکی کی اپنی عمر 26 برس ہو چکی ہے اور اس نے اپنی بیٹی کی پہلی سالگرہ جبکہ اپنے جگر کی 100ویں سالگرہ منائی۔
بی بی سی میں شائع اس دلچسپ آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ ہم میں سے چند لوگ یہ جانتے ہونگے کہ ہمارا جگر ہمارے دادا دادی جتنا پرانا ہو سکتا ہے اور یہ کہ ہمارے جسم کے کچھ اعضاء ہمارے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جگر بھی ایک ایسا انسانی عضو ہے جو اپنے آپ کو دوبارہ نمو دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جن مریضوں کے جگر کا سرجری کے ذریعے دو تہائی حصہ کاٹ دیا جاتا ہے یا ہٹا دیا جاتا ہے تو یہ ایک سال کے عرصہ میں خود کو مکمل طور پر دوبارہ مکمل کر لیتا ہے۔