منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک کورونا کے مریض خدشات سے بہت کم ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ حفاظتی تدابیر پر عمل نہ کرنے کی صورت میں 30 جون تک کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ ہو سکتی ہے مگر اب 2 لاکھ 25 ہزار یا اس سے بھی کم مریض سامنے آ سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اگر لوگ اپنی انفرادی اور حکومت اجتماعی ذمہ داری پوری کرے تو وبا کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق بہت سے لوگ ایس او پیز ہر عمل کر رہے ہیں جبکہ صوبوں میں بھی انتظامی کارروائیاں جاری ہیں۔
کورونا کی علامات پر وسیع پیمانے پر کی گئی تحقیق کے نتائج سامنے آ گئے
بھارت میں مردوں کی نسبت خواتین میں کورونا کے باعث موت کی شرح زیادہ کیوں ہے؟
اسد عمر نے بتایا کہ حکومت نے مئی کے وسط سے اسمارٹ لاک ڈاؤن شروع کر دیا تھا جبکہ 14 جون سے ملک کے 20 شہروں کے منتخب علاقوں کو بند کرنا شروع کر دیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی سماجی فاصلہ، ماسک اور ہاتھ دھونے جیسے معاملات پر احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جس سے وائرس کے پھیلاؤ میں کمی نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ خطرہ ٹل گیا ہے، اگر احتیاطی تدابیر میں کوتاہی کی گئی تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
اسد عمر کے مطابق حکومت ایک ہفتے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی کہ کون سے اقدامات جاری رکھے جائیں، 31 جولائی تک ملک بھر میں متوقع صورتحال کے متعلق بھی اسی وقت بتایا جا سکے گا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ کورونا وبا کے دوران 2 ہفتے ایسے آئے تھے جب اسپتالوں پر دباؤ بہت بڑھ گیا تھا جس پر حکومت نے جون کے آخر تک اسپتالوں میں 1000 آکسیجن بیڈز فراہم کرنے کا فیصلہ کیا، جولائی تک 2 ہزار مزید بستروں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حفاظتی تدابیر اور انتظامی اقدامات کے باعث ملک میں صحت کا نظام مفلوج نہیں ہوا۔
پاکستان میں کورونا کیسز میں مسلسل کمی سے امید جاگ اٹھی
کورونا سے پہلے پاکستان کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی تھی، اسد عمر
اسد عمر نے کہا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکس جس طرح اس وبا کا مقابلہ کر رہے ہیں ہمارا بھی فرض ہے ہم بھی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، اس سے صحت کا نظام بھی مفلوج ہونے سے بچ جائے گا اور کاروبار بھی جاری رکھا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ مکمل لاک ڈاؤن سے سفید پوش طبقہ اور غریب لوگ متاثر ہوتے ہیں، اس کی بھیانک تصویر ہم نے بھارت میں دیکھی ہے۔ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے سے یہ صورتحال پاکستان میں نہیں پیش آئے گی۔