• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
بدھ, اپریل 29, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

دنیا کے غریب افراد اور ممالک تک کورونا ویکسین کیسے پہنچے گی؟

by sohail
جون 25, 2020
in انتخاب, تازہ ترین, کورونا وائرس
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

کورونا وائرس کے علاج کیلئے کورونا ویکسین کی تیاری پر اربوں ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں، 100 سے زیادہ کمپنیاں اس دوڑ میں شریک ہیں جن میں کم از کم 13 نے پہلے سے ہی انسانوں پر تجربات شروع کر دیے ہیں لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ ویکسین کرہ ارض پر بسنے والے غریب ترین لوگوں تک کیسے پہنچے گی؟

یہ سوال دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کی تقدیر سے تعلق رکھتا ہے اور وبا کے دنوں میں ایک مرکزی سوال بن چکا ہے جسے ماضی میں سمجھنے میں ناکامی کے نتیجے میں غیر ضروری اطور پر اموات ہوئیں۔

امریکی کمپنی اکتوبر میں کورونا ویکسین کی لاکھوں خوراکیں مہیا کرنے کے لیے پرامید

چھ ماہ میں کورونا کے متعلق ہم نے کیا سیکھا؟ اگلے 6 ماہ کیسے ہوں گے؟

ابھی بھی عام خیال یہ ہے کہ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ جب فارما سیوٹیکل کارپوریشنز سے پوچھیں کہ وہ کوڈ 19 کے علاج میں استعمال ہونے والی ویکسینز کی عام لوگوں تک رسائی کو کیسے ممکن بنائیں گے تو ‘گیوی’ کا ذکر کرتے ہیں اور جب دنیا کی بے حد دولت مند حکومتوں سے پوچھیں کہ وہ عالمی برابری کو یقینی بنانے کے لیے کیا کردار ادا کر رہیں ہیں تو وہ بھی یہی نام لیتی ہیں۔

گیوی ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ویکسین الائنس ہے جو 20 سال سے کام کر رہا ہے اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ویکسین تک رسائی دنیا بھر میں بسنے والے ہر ایک شخص کے لیے ہونی چاہیے۔

گیوی ہر سال 17 مختلف بیماریوں کے خلاف 500 ملین ویکسین ڈوز بھیجتا ہے۔ جتنی رقم گیوی کیلئے ہر سال جمع کی جاتی ہے وہ بھی اتنی ہی حیران کن ہے۔ اس ماہ کے شروع میں منعقد ہونے والے عالمی ویکسین سمٹ میں گیوی نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے 8.8  ارب ڈالرز کی ریکارڈ رقم جمع کی۔ برطانوی حکومت، دیگر دولت مند ممالک اور بل گیٹس فاؤنڈیشن اس ویکسین الائنس کے سب سے بڑے ڈونرز ہیں۔  

سمٹ کے اجلاس میں گیوی نے ویکسین تک رسائی کے پہلوؤں پر کم توجہ دی تاکہ فنڈ کو امیر ممالک کے لیے پرکشش بنایا جائے۔ مثال کے طور پر اس بات پر اتفاق رائے کیا گیا ہے کہ ویکسین دنیا کے سب سے زیادہ کمزور لوگوں تک مساوی اور مناسب طریقے سے دی جانی چاہیے اور اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کا آئندہ اجلاس گلوبل ایلوکیشن فریم ورک اس کی وضاحت کرے گا کہ یہ کام کیسے انجام دیا جا سکتا ہے۔

اس ہفتے شروع ہونے والے گیوی بورڈ کے اجلاس کیلئے تیار کی گئی رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ امیر ممالک عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کو نظرانداز کر سکتے ہیں اور صرف غریب ممالک کو ہی اس کی پاسداری کرنا ہو گی۔ 

دی گارڈین میں شائع ایک آرٹیکل میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دستاویزات کے مطابق گیوی امیر ممالک کو ان کی آبادی کے لحاظ سے مقررہ فیصد سے زیادہ ویکسین مختص کرے گا جس کا فیصلہ ان کی نیشنل ایڈوائزری باڈیز کریں گی۔ جبکہ غریب ممالک ثبوت پیش کرنے کے بعد صرف اپنے اولین ترجیح رکھنے والے افراد کیلئے ویکسین حاصل کریں گے۔

کورونا کے خلاف روس کی دوائی ایوی فیور کی سعودی عرب میں آزمائش شروع کرنے کا امکان

برطانیہ میں بڑی تعداد میں لوگ کورونا کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں، نئی تحقیق

امیر ممالک کا حوصلہ بڑھایا گیا ہے کہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ ویکسین غریب ممالک کو عطیہ کرے۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ یہ غریب ممالک عطیہ شدہ ویکسین کب حاصل کریں گے۔ کیا یہ ویکسین غریب ممالک اور امیر ممالک کو بیک وقت دی جائے گی یا پھر اس وقت ملے گی جب امیر ممالک اپنی ضرورت کے مطابق تمام ویکسین استعمال کر چکے ہوں گے؟ 

دواساز کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ہم اس وبائی بیماری سے پیسہ نہیں کمائیں گے اور اس ویکسین کو صرف اس پر آنے والی لاگت پر ہی فروخت کیا جائے گا۔ لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنی مارکیٹ سرمائے میں اربوں ڈالرز کا اضافہ کیا ہے اور وہ ان اجارہ داریوں کو ختم کرنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں جو ان کے منافع کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اگر گیوی چاہیے تو گیم چینجر بن سکتا ہے اور دواساز کمپنیوں کی اجارہ داری کو ختم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ عالمی ادارہ صحت کےکورونا سے متعلق ٹیکنالوجی ایکسیس پول جیسا کوآپریٹو اور باہمی تعاون پر مبنی اجارہ داری سے پاک میکنزم تیار کر سکتے ہیں اور اس موقع پر یہ ایک اچھا قدم ثابت ہو گا جس سے گیوی اپنا 20 سال قبل دنیا سے کیا گیا وعدہ پورا کر سکتا ہے۔

Tags: CoronavirusCoronavirus Vaccineکورونا وائرسکورونا وائرس کی ویکسینویکسین اور غریب ممالک
sohail

sohail

Next Post

پاکستان نے لاک ڈاؤن کے دوران کیا سرچ کیا؟ گوگل نے تفصیلات جاری کر دیں

ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا، اس نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیے، چیف جسٹس

شوہر نے کورونا کا شکار ہونیوالی بیوی کو پانچویں منزل سے نیچے پھینک دیا

کورونا کی علامات پر وسیع پیمانے پر کی گئی تحقیق کے نتائج سامنے آ گئے

جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن انتقال کر گئے

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In