• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
پیر, اپریل 20, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

لوگوں کو بڑی امید تھی اس لیے تبدیلی لائے، چیف جسٹس

by sohail
جون 25, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ عوام کو بڑی امید تھی اس لیے وہ تبدیلی لائے۔

حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے؟

کورونا وبا کے خلاف حکومتی اقدامات سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے وفاقی حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ نہیں معلوم حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے اور عوام کے مسائل کیسے حل کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں این ڈی ایم اے جیسا حال ہے، حکومت عوام کے مسائل کس طرح حل کرے گی؟ کیا عوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہے؟ ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا، عوام کو روٹی، پٹرول، تعلیم، صحت اور روزگار کی ضرورت ہے۔

این ڈی ایم اے میں شفافیت نظر نہیں آ رہی

انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے کام میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔ ادارے نے نجی کمپنی کی این 95 ماسک کی فیکٹریاں لگوا دیں، کمپنی کا مالک 2 دن میں ارب پتی بن گیا ہو گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈیوٹی میں فائدہ کسی کمپنی کو نہیں دیا گیا، این ڈی ایم نے ہنگامی حالات میں نجی کمپنیوں کو مشینری منگوانے کی سہولت دی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کورونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا ہے، ایسی مہربانی سرکار نے کسی کمپنی کے ساتھ نہیں کی، اسکے مالک کا گھر بیٹھے کام ہو گیا، معلوم نہیں باقی لوگوں اور کمپنیوں کے ساتھ کیا ہوا؟

انہوں نے کہا کہ کسی انفرادی شخصیت کو فیور نہیں ملنی چاہیے، مذکورہ کمپنی میں کافی سارے لوگ شامل ہیں، یہ معلوم نہیں کہ اس کمپنی کے پارٹنرز کون ہیں، کس قیمت کی مشینری آئی، ایل سی کیسے کھولی گئی، ایسی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا کہ بیروزگاری اسی وجہ سے ہے کہ حکومتی اداروں سے عوام کو سہولت نہیں ملتی، باقی شعبوں کو بھی ایسی سہولت فراہم کریں تو ملک کی تقدیر بدل جائے۔

سندھ بجٹ میں پرتعیش گاڑیوں کے لیے 4 ارب روپے

سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ بجٹ میں لگژری گاڑیوں کیلئے مختص 4 ارب روپے سپریم کورٹ میں جمع کرائے جائیں۔

چیف جسٹس نے سندھ کے اٹارنی جنرل کو سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے پاس کھانے کو روٹی اور آپ کے پاس تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں ہیں، 4 ارب کی گاڑیاں کیسے منگوا رہے ہیں، ہم دیکھتے ہیں یہ رقم کیسے سرکاری ملازمین اور لیڈرزکی عیاشیوں پرخرچ ہوتی ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آپ نے اسپرے کرنے والے جہازوں کیلئے پائلٹ باہر سے کیوں منگوائے؟ اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ محکمے کا کہنا ہے وہ پائلٹس کو تربیت دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت 4 ارب روپے کی 400 لگزری گاڑیوں کے لئے کیسے خرچ کر سکتی ہے، یہ گاڑیاں صوبے کے حکمرانوں کے لئے منگوائی گئی ہیں، ایک گاڑی کی قیمت ایک کروڑ سولہ لاکھ ہے، اس طرح کی لگژری گاڑیاں منگوانے کی اجازت نہیں دینگے، 4 ارب کی رقم سپریم کورٹ کے پاس جمع کرائیں، کراچی کا نالہ صاف کے کرنے کے لیے پیسے نہیں، کیا پنجاب، کے پی، بلوچستان ایسی گاڑیاں منگوا رہے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرلز نے جواب دیا کہ کے پی اور پنجاب ایسی لگژری گاڑیاں نہیں منگوا رہے۔

پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ

عدالت نے پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معانلے پر نوٹس لیکر ڈی جی سول ایوی ایشن سمیت تمام ائیرلائنز کے سربراہوں کو طلب کر لیا۔ عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے لگژری گاڑیوں کے لیے مختص رقم پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔

کمرشل ائیرلائنز میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر سپریم کورٹ نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو ذاتی حیثیت سے طلب کرتے ہوئے احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ پیش ہوکر جعلی ڈگری والے پائلٹس کی وضاحت کریں۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ پائلٹ کی جعلی ڈگریاں لے کر کمرشل ایئر لائنز پر مسافروں سے بھرا طیارہ اڑانا قانون کی نظر میں سنگین جرم ہے۔ عدالت نے پی آئی اے، ایئر بلیو اور سرین ایئر لائن کے سربراہان کو بھی ذاتی حیثیت سے طلب کر تے ہوئے احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ تمام افراد پائلٹس کی تعلیمی قابلیت سمیت دیگر کوائف کے ہمراہ پیش ہوں۔

پی آئی اے طیارہ حادثے پر ابتدائی انکوائری کے حوالے سے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جہاز کریش کا سارا الزام پائلٹ اور ٹریفک کنٹرولر پر ڈال دیا، میں سن کر حیران رہ گیا کہ 15 سال پرانے جہاز میں کوئی خرابی نہیں تھی، سول ایوی ایشن پیسے لے کر پائلٹس کو لائسنس جاری کرتی ہے تو قصور سول ایوی ایشن کا ہوا یا پائلٹس کا کیا قصور ہے؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسمبلی کے فلور پر ایک وزیر نے کہا جس کا دل چاہتا ہے پائلٹ کا لائسنس لے لیتا ہے، لگتا ہے سول ایوی ایشن والے پیسے لے کر جہاز چلانے کا لائسنس دیتے ہیں، جعلی لائسنس پر جہاز اڑانا ایسے ہی ہے جیسے کوئی چلتا پھرتا میزائل ہو، جعلی لائسنس لے کر جہاز میں لوگوں کو بٹھا کر اڑنا اس میزائل جیسا ہے جو کہیں بھی جا کر پھٹ جائے، ہمیں حکومت کی رپورٹ پر حیرانی ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا جہاز میں کوئی نقص نہیں تھا، حیرت کی بات ہے کہ 15 سال پرانا جہاز اڑایا گیا، رپورٹ میں سارا ملبہ سول ایوی ایشن پر ڈال دیا گیا، سول ایوی ایشن والے وہی ہیں جو پائلٹس کو لائسنس دیتے ہیں، یہ حیران کن ہے کہ جعلی لائسنس کی بنیاد پر جہازوں کی کمرشل پروازیں اڑانے کی اجازت دی گئی۔

مشرق وسطیٰ سے آنے والے پاکستانی

چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ 50 ہزارسے ایک لاکھ مزدورمشرق وسطیٰ سے واپس آ رہے ہیں، یہ لوگ 3 ماہ جمع شدہ رقم سے نکال لیں گے، اس کے بعد مزدور کیا کریں گے؟

انہوں نے اسستفسار کیا کہ کیا بیرون ملک سے آنے والوں کو 14 دن قرنطینہ میں رکھنے کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ جہاں چاہیں چلا جائیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعظم کہتا ہے کہ ایک صوبے کا وزیر اعلی آمر ہے، اس کی وضاحت کیا ہوگی؟ وزیر اعظم اور وفاقی حکومت کی اس صوبے میں کوئی رٹ نہیں ہے، پیٹرول، گندم، چینی کے بحران ہیں، کوئی بندہ نہیں جو اس بحران کو دیکھے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ مسلم ممالک میں پاکستان ایسا ملک ہے جہاں رمضان میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، دیگر ممالک میں رمضان کے دوران چیزوں کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بیرون ملک سے منگوائی گئی ادویات کیا نجی پارٹی کو دی گئی ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس صورتحال میں این ڈی ایم اے کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے، پہلے بھی یہی ہوا کہ پرائیویٹ پارٹیوں نے سامان منگوا کر قیمت بڑھائی گئیں۔

دوران سماعت سندھ حکومت کی جانب سے لگژری گاڑیوں کے لیے مختص رقم پر بھی بحث ہوئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مشینری ، امپورٹ اور دیگر سامان سے متعلق تفصیلات تسلی بخش نہیں ہے۔

جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ آکسیجن سیلنڈر کی قیمت پانچ ھزار سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، صوبائی حکومت شہریوں کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے، حکومت کہاں ہے، جج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شہری بھی ہوں، قانون کی عمل داری کدھر ہے۔ جسٹس قاضی امین

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کو بڑی امید تھی اس لیے تبدیلی لائے۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ سیاسی لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر آگئے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت قانون کے اندر رہتے ہوئے سخت فیصلے کررہی ہے۔ تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پوری حکومت کو 20 لوگ یرغمال نہیں بنا سکتے، حکومت کی اگر کوئی خواھش ہو اسے کوئی روک نہیں سکتا، حکومت ہر کام میں قانون کے مطابق ایکشن لے، 16 ملین ٹن گندم سندھ سے چوری ہوگئی، اس کا کیا بنا، لگتا ہے نیب کے متوازی این ڈی ایم اے کا ادارہ بن جائے گا، یہ ساری چیزیں عوام اور پاکستان کے لئے تباہ کن ہیں۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران لوڈ شیڈنگ کس بات کی ہو رہی ہے، دکانیں اور ادارے بند پھر لوڈ شیڈنگ کیسی، جس ملک کے لوگوں کو 18 گھنٹے بجلی نہیں دینگے وہ بات کیوں سنیں گے، جن کو روزگار، صحت اور دیگرسہولیات نہیں دینگے تو وہ حکومت کی بات کیوں سنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کے ساتھ اپنا معاہدہ توڑ دیا، آئین کا معاہدہ ٹوٹے بڑا عرصہ ہو چکا ہے، لوگ انتظار میں ہیں کہ کب انہیں اس کا پھل ملے گا، یہ پھل چند لوگوں کو مل گیا، پتہ نہیں اس سے ھم اور آپ فائدہ اٹھا رہے ہیں یا نہیں، پارلیمنٹ کو اس چیز کا احساس ہونا چاہیئے۔

 چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ حکومت سے ہدایات لے کر بتائیں کیا کرنا ہے، ہر شھری کو بنیادی سہولیات ملنی چاھیئے، اس پر حکومت اپنا پلان دے، ملک میں کورونا کی وبا چل رہی ہے۔

Tags: این ڈی ایم اےسپریم کورٹ آف پاکستانکورونا وائرس ازخود نوٹس
sohail

sohail

Next Post

ٹرائی روم میں خفیہ کیمرے لگا کر خواتین کی برہنہ ویڈیوز بنانے والے گرفتار

عدلیہ کے خلاف توہین آمیز ویڈیو پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا

دنیا کے غریب افراد اور ممالک تک کورونا ویکسین کیسے پہنچے گی؟

پاکستان نے لاک ڈاؤن کے دوران کیا سرچ کیا؟ گوگل نے تفصیلات جاری کر دیں

ایف آئی اے کو کچھ کرنا نہیں آتا، اس نے کسی معاملے پر نتائج نہیں دیے، چیف جسٹس

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In