پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئنی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
قیوم اسلم خان نے اپنی درخواست میں وفاقی حکومت، اوگرا سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے قواعد ضوابط کو مدنظر نہیں رکھا گیا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں لیکن پاکستان میں 66 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا
قیوم اسلم خان نے درخواست میں استدعا کی ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جسے وہ پورا نہیں کر رہی، عدالت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف حکم امتناعی جاری کرے۔
درخواست گزار نے مزید استدعا کی ہے کہ عدالت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ کر دیا گیا تھا، پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے 58 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا۔
اسی طرح مٹی کے تیل کی قیمت میں 23 روپے 50 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے 84 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 100 روپے 10 پیسے، ڈیزل کی نئی قیمت 101 روپے 46 پیسے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 59 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل کی نئی قیمت 55 روپے 98 پیسے ہو گئی ہے۔