برطانیہ میں باہر سے آنے والے آدھے سے زیادہ کورونا کیسز پاکستان سے آئے، یکم مارچ سے لیکر اب تک 190 فلائٹس پر 65 ہزار سے زائد لوگوں نے پاکستان سے برطانیہ کا سفر کیا۔
دی ٹیلی گراف میں شائع خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے اعدادوشمار کے مطابق 4 جون سے پاکستان سے برطانیہ آنے والے 30 افراد میں کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں جو کہ نصف سے زیادہ امپورٹڈ کیسز کی نمائندگی کرتے ہیں۔
برطانیہ کا سب سے بڑا شکاری پرندہ 240 سال بعد ملکی فضاؤں میں لوٹ آیا
کورونا وائرس پھیلانے کا الزام، برطانیہ میں 77 فون ٹاورز جلا دیے گئے
پاکستان سے روزانہ 2 سے زیادہ پروازیں پاکستان سے برطانیہ آتی ہیں اور اطلاعات کے مطابق آنے والے مسافروں میں سے کچھ کو فوری طور پر اسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا۔
حکام کو یہ پریشانی لاحق ہے کہ اس سے برطانیہ کے خلاف ردعمل پیدا یو سکتا ہے اور یورپ میں انفیکشن کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے کیونکہ برطانیہ اپنے ائیر بریجیز کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔
پرتگال بھی ایسی ہی صورتحال سے گزر رہا ہے، وہاں برازیل سے امپورٹڈ کیسز سامنے آئے ہیں لیکن وہ اپنے نوآبادیاتی روابط کی وجہ سے کھلے عام کہنے سے قاصر ہیں۔
پاکستان سے آنے والوں کے کورونا وائرس پھیلانے کے خدشے کے پیش نظر دنیا کی بڑی ائیر لائنز میں سے ایک نے گزشتہ ہفتے پاکستان کے ساتھ فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
دبئی کی ایئر لائن ایمریٹس نے بھی 22 جون کو ہانگ کانگ ایئرپورٹ پر 30 پاکستانیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد فضائی آپریشن معطل کر دیا۔ اس کے علاوہ اتحاد ائیر اور فلائے دوبئی نے بھی پاکستان کیلئے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
رواں ہفتے ساؤتھ کوریا نے بھی پاکستان اور بنگلادیش سے آنے والوں کیلئے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔
برطانیہ میں جنوب ایشیائی باشندوں کی کورونا سے زیادہ اموات کیوں ہوئیں؟ نئی تحقیق
پاکستان میں کورونا کیسز میں مسلسل کمی سے امید جاگ اٹھی
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسافروں کی آن بورڈ ہونے سے پہلے ہیٹ سینسرز کے ذریعے اسکریننگ کی جاتی ہے اور بخار ہونے کی صورت میں انھیں طیارے میں سوار نہیں کیا جاتا۔ مسافروں کیلئے ماسک پہننا ضروری ہے۔
حکام کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک وقت میں تقریباً ایک لاکھ برطانوی شہری موجود ہوتے ہیں جن میں بیشتر دوہری شہریت کے حامل ہیں۔
4 اپریل سے 13 مئی کے دوران تقریبا 25 ہزار برطانوی شہری وطن واپس آئے جو کہ تقریباً تمام ہی برطانوی پاکستانی تھے۔