گزشتہ 24 گھنٹوں میں امریکہ میں کورونا کے 47 ہزار نئے کیسز سامنے آئے ہیں جو اس وبا کے دوران ایک ہی دن میں نئے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
نیویارک کے بعد اب کیلیفورنیا، ایریزونا اور ٹیکساس اس وبا کے نئے مرکز بن چکے ہیں جہاں کورونا کے کیسز ریکارڈ تعداد میں آ رہے ہیں۔
ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے امریکی سینیٹ کمیٹی کو بتایا ہے کہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ہم اس وقت وبا پر قابو نہیں پا سکے اور مجھے بہت خدشات ہیں کہ یہ صورتحال مزید بدتر ہو سکتی ہے۔
جنوبی امریکہ کے ملک کیوبا نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟
کورونا وبا کے خاتمے پر چین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے خطرات لہرانے لگے
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں روزانہ کی بنیاد پر نئے کیسز کی تعداد ایک لاکھ تک جا سکتی ہے، اسے روکنے کے لیے قومی سطح پر زور لگانا پڑے گا۔
ڈاکٹر فاؤچی نے کہا کہ ہم صرف ان علاقوں پر فوکس نہیں کر سکتے جہاں یہ وبا زیادہ پھیلی ہوئی ہے، ایسا کر کے ہم پورے ملک کو خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔
ویکسین کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کی تیاری کی کوئی ضمانت نہیں ہے لیکن امید ہے کہ اگلے سال کے شروع تک یہ تیار ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ویکسین سے بھی ہرڈ ایمیونٹی ملنا ممکن نہیں ہے کیونکہ ایک تو یہ جزوی طور پر فائدہ دے گی دوسرے بہت سے امریکی ویکسین استعمال نہیں کریں گے۔
رائٹرز کے مطابق امریکہ کی کم از کم 10 ریاستوں میں جون کے دوران کورونا کیسز دگنے ہو چکے ہیں، ٹیکساس اور ایریزونا کے کئی اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستروں کی کمی ہو چکی ہے۔
کورونا ویکسین پر پہلا حق کس کا ہوگا؟ امریکہ اور فرانس میں جھگڑا شروع
اب تک امریکہ میں ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کورونا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کروڑوں بیروزگار ہو چکے ہیں۔ مریضوں کی کل تعداد 27 لاکھ سے اوپر جا چکی ہے۔