چین میں سوروں میں پایا جانے والا ایک وائرس اب انسانوں میں منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے، چینی ریسرچرز کی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس میں ایک عالمی وبا کی صورت اختیار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
سوائن فلو کی اس نئی لہر کو انتہائی خطرناک قرار دے دیا گیا ہے اور صحت کے حوالے سے اہم یاددہانی کرائی گئی ہے کہ انسان جانوروں سے پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے مسلسل خطرے سے دوچار ہے جو بآسانی جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے لگی ہیں۔
کیا کورونا سے صحتیاب ہونے والے دوبارہ اس مرض کا شکار ہو سکتے ہیں؟
کورونا وبا کے دوران پاکستانیوں نے گوگل پر کیا سرچ کیا؟
چینی سائنسدانوں نے 2011 سے 2018 کے دوران سوروں میں موجود انفلوئنزا وائرس پر تحقیق کی ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ایچ ون این ون کا ‘جی 4’ سٹرین ایک وبائی وائرس بننے کی تمام خصوصیات رکھتا ہے۔
یہ وائرس جینیاتی طور پر H1N1 سوائن فلو سے نکلا ہے جو 2009 میں وبا کا سبب بنا تھا۔
چائینز یونیورسٹی اور چائینہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
سوروں کے فارم میں کام کرنے والے افراد میں اس وائرس کی سطح بڑھ چکی ہے، ریسرچرز نے چین کے گنجان آباد علاقوں میں اس وائرس کی انسانوں میں منتقلی کے خطرات کو نمایاں بتایا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ ان کا ادارہ چین سے سامنے آنے والی تحقیق کو بغور دیکھے گا لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ جانوروں کی آبادی پر مکمل نظر رکھنے کے لیے باہمی تعاون کیا جائے۔
کورونا وبا کے پھیلاؤ میں 80 فیصد کردار ‘سپر سپریڈر’ کا ہے، نئی تحقیق
دوسری جانب چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر زیادہ توجہ دینے یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔