بھارت میں کورونا کا پھیلاؤ اور اس کی تباہی مسلسل بڑھ رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 17 ہزار سے زائد نئے مریض جبکہ 500 اموات واقع ہو چکی ہیں جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
اس سے قبل دو ماہ سے زائد عرصے پر محیط لاک ڈاؤن کے دوران بےشمار تکلیف دہ واقعات سامنے آئے تھے جن پر سوشل میڈیا پر بہت تنقید کی گئی۔
اب جبکہ لاک ڈاؤن نرم کر دیا گیا ہے اور کورونا سے اموات بڑھ رہی ہیں تو مزید انسانیت سوز واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
بھارت میں مردوں کی نسبت خواتین میں کورونا کے باعث موت کی شرح زیادہ کیوں ہے؟
بھارت کے امیر ترین شہر ممبئی میں کورونا کی تباہی کا آنکھوں دیکھا حال
ایسا ہی ایک واقعہ کرناٹک کے ضلع بیلاری میں پیش آیا جہاں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں بے دردی سے ایک گڑھے میں ڈال دی گئیں۔
اس کی ویڈیو پوسٹ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پہ شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور کرناٹک کی حکومت پر سخت تنقید کی گئی۔
حکومت نے میتوں کی بے حرمتی کے اس واقعہ پر لواحقین سے معافی مانگتے ہوئے اس میں شریک فیلڈ ٹیم پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سب سے پہلے کانگریس کے رہنما ڈی کے شیو کمار نے ٹویٹر پر یہ ویڈیو پوسٹ کی جس پر حکومت نے تیزی سے ردعمل دکھایا اور تحقیقات کے بعد بتایا کہ یہ واقعہ بیلاری میں پیش آیا جہاں کورونا کے باعث کافی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
نائب کمشنر نکول نے اپنے بیان میں کہا کہ جس طرح ضلعی انتظامیہ نے میت کے ساتھ سلوک کیا ہے اس پر افسوس ہے، فیلڈ ٹیم کو معطل کر دیا گیا ہے اوریہ کام ایک نئی ٹیم کے سپرد کر دیا جائے گا۔