پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی برطرفی کے حوالے ردعمل دیتے ہوئے ان کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مریم نواز کا ردعمل
ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ تین بار ملک کے وزیر اعظم رہنے والے مقبول ترین سیاست دان کی بے گناہی پر وقت کا فیصلہ آ گیا ہے۔ سات محترم جج صاحبان نے جج کی برطرفی کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ نوازشریف کو کس طرح سزائیں دی گئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کا فیصلہ بے شک سچ کی فتح اور جھوٹ کی شکست ہے۔ اس فیصلے نے نواز شریف پر ہی نہیں ،عدل و انصاف کے دامن پر لگا ایک بڑا داغ دھویا ہے۔
انہوں الّلہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ہاں نا دیر ہے نا اندھیر۔ اب عدلیہ کے وقار اور انصاف کا تقاضہ ہے کہ داغدار جج کے داغدار فیصلوں کو بھی پھاڑ پھینکا جائے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ انصاف کبھی ادھورا نہیں ہوتا، مکمل انصاف کا تقاضہ ہے کہ جس طرح جج کو برطرف کیا گیا ہے اسی طرح اس کے بدعنوان فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔
انہوں نے نواز شریف کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے کہ یہ ملک کے منتخب وزیر اعظم ہیں, جو اپنا آپ اور اپنا خاندان بکھرتا دیکھتے ہیں ، بڑے سے بڑا نقصان اٹھا لیتے ہیں مگر آئین اور قانون کو سربلند رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا صبرجیت گیا. ان کی استقامت, جبر پر بھاری رہی۔ ان کے چاہنے والے اللّہ رب العزت کے حضورسجدہ شکر ادا کریں۔
فواد چوہدری کا ردعمل
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ مریم نواز کو مزید کیا رعایت چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے والد نے تو سزا کاٹی ہی نہیں، وہ تو بوریا بستر اور پلیٹیں اٹھا کر لندن چلے گئے، مجھے نہیں اندازہ کہ انہیں کیا رعایت چاہیے؟
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں نواز شریف کو سزا کم ملی ہے، احتساب پی ٹی آئی کا وعدہ تھا، اس پر ڈلیوری اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جج ارشد ملک جیسے معاملات سے عدلیہ کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہوتا، عدلیہ، فوج اور کابینہ سب قومی ادارے ہیں، ان کو مضبوط ہونا چاہئے۔
ان کا کہنا تھا کہ مائنس ون اس وقت ہوتا ہے جب لیڈر پارٹی سے چھوٹا ہو، جہاں رہنما پارٹی سے بڑا ہو وہاں اسے مائنس کیسے کیا سکتا ہے؟
وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کا ووٹ عمران خان کے نام پر پڑتا ہے، وہ عوام کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں، وہ پی ٹی آئی کا نام عمران خان کی پارٹی رکھ دیں تب بھی وہ مقبول ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ عوام سے اصلاحات کا وعدہ کر کے آئے تھے، ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے، موجودہ حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، 5 سال پورے کریں گے۔
وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی کھولنا خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچھا فیصلہ ہے، حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں، اس کے بعد فیصلہ عدلیہ نے کرنا ہوتا ہے۔
شہباز گل کا ردعمل
وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے مریم نواز کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا ہے کہ جج ارشد ملک کیس میں دو فریق تھے، ایک ارشد ملک جنہیں آج سزا ملی اور دوسرے مریم نواز اور ناصر بٹ۔
انہوں نے کہا کہ آج کہ فیصلے کے بعد اس بات کی امید اور بھی مضبوط ہو گئی کہ مریم اور ناصر بٹ کو بھی سزا مل سکتی ہے اور ان کا اصل چہرہ عوام کہ سامنے ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سزا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ تو اعلیٰ عدلیہ ہی کر گی۔