دعا منگی اغوا کیس میں پولیس نے انسداد دہشت گردی عدالت میں چالان پیش کر دیا جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دعا منگی کے والد نے 25 لاکھ روپے تاوان کی رقم ادا کر کے بیٹی کو بازیاب کرایا۔
چالان کے مطابق اغوا کار تاوان کے لیے اٹلی کا فون نمبر استعمال کر رہے تھے، دعا منگی کے والدین سے واٹس ایپ پر کال کرتے رہے۔
پولیس نے اپنے چالان میں بتایا ہے کہ اغوا کے بعد دعا منگی کو کلفٹن میں روفی بیچ پرائراڈ فلیٹ میں زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ بسمہ نامی لڑکی کو بھی اغوا کے بعد اسی فلیٹ میں رکھا گیا تھا، کیس میں مفظر عرف موذی، ذوہیب قریشی، محمد طارق عرف شکیل سمیت 5 ملزمان گرفتار ہیں۔
چالان کے مطابق ملزمان نے اپنے بیان میں اغوا سے متعلق اعتراف جرم کرلیا ہے، گرفتار ملزمان کے قبضے سے 9 ایم ایم پستول، 30 بور پستول، گاڑی، سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت اہم چیز برآمد کرلی ہیں۔
عدالت نے کیس کا چالان منظور کرلیا، کیس کی مزید سماعت 7 جولائی کو انسداد دہشت گردی عدالت نمبر 2 میں ہو گی۔
یاد رہے کہ 30 نومبر کو کراچی میں کار سوار ملزمان نے نوجوان حارث کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا اور ان کے ساتھ موجود دعا منگی کو اغواء کر کے فرار ہو گئے تھے۔
مغویہ 6 دسمبر کی رات گھر واپس پہنچ گئی تھی جس کے بعد یہ خبریں آئی تھیں کہ ان کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے بعد ممکن ہوئی تھی تاہم دعا منگی کے اہلخانہ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا تھا۔