یہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آخری لمحوں کی، اُس کرّہ کی کہانی ہے جہاں زندگی ڈسٹ بِن میں پڑی ہانپتی رہتی تھی۔ ایک نوجوان گھر کا چراغ روشن رکھنے کے واسطے پوٹلی پر گرفت مضبوط کیے بھاگ رہا تھا۔ پوٹلی میں موجود معمولی غذا کا گھر میں زندگی کو انتظار تھا۔ کتے غذاچھیننے کے واسطے باؤلے ہوچکے تھے۔ عجیب دِن تھا، جب اِس نے صبح دَم رزق کی تلاش کے لیے باپ سے اجازت چاہی تو بوڑھے چہرے پر پیلاہٹ کھنڈتی چلی گئی تھی۔ یہ اُس پیلے خوف کی تفہیم نہ کر پایا تھا۔
‘یہاں رزق کمانا اور رزق کی حفاظت کرنا آسان نہیں’ بوڑھا باپ زندگی کا نچوڑ ایک جملے میں کانپتی آواز کے ساتھ ادا کرتا ہے مگر اِس کو عملی دُنیا میں قدم رکھنا تھا۔ یہ اپنی تعلیم کا مرحلہ طے کرچکا تھا، ‘جو کتابوں میں پڑھایا گیا، وہ سب تو بہت حوصلہ بخش ہے’، یہ سوچتا ہے۔ یہ سوچ کر سورج کے ساتھ ساتھ ہولیتا ہے۔
یہ چوراہے کو عبور کر کے اُس گلی میں داخل ہونے والا تھا جس کا اختتام شہرِ خاموشاں کا آغاز ہے۔ یہ چند لمحے قبل جس چوراہا میں تھا اُس کے بیچوں بیچ ٹاہلی کا پیڑ خلا کی وسعتوں کو گلے لگائے ہوئے تھا، اس کے سائے میں چائے کا کھوکا ایستادہ تھا، چائے والا کیتلی کے نیچے پھونکیں ماررہاتھا، پیڑ پر بیٹھی فاختہ گیت گارہی تھی۔
یہ وہاں رُکنا چاہتا تھا تاکہ اُکھڑی سانسوں کو بحال کرسکے لیکن ایسا ممکن نہیں رہا تھا، ایک لمحے کا توقف موت کا ہم معنی ٹھہرتا، کتے پوٹلی کے ساتھ ساتھ ِاسے بھی چیر پھاڑ دیتے، حالانکہ کتے اُس کی اپنی بستی کے اوردیکھے بھالے تھے، اِن کے سامنے تازہ گوشت کی ڈھیریاں خود بارہا دیکھ چکا تھا۔ لمحہ اوّل سے لمحہ موجود تک زمین پر لہوں کے چھینٹوں کے پیچھے بھوک و ہوس کی جبلت کارفرما ہے، یہ عقدہ بھاگتے بھاگتے ذہن نے حل کر ڈالا۔
یہ چوراہا عبور کر کے اُس گلی میں داخل ہو چکا تھا جس کا اختتام شہرخاموشاں کا آغاز تھا، جس میں ایک ایک کچا گھر ماں کا بھی تھا، عام دِنوں میں ماں کی چوکھٹ پر حاضری اور درودشریف کا تحفہ، معمول کا حصہ تھا مگر یہ عام دِن نہیں تھا، لحظہ بھر کے لیے رُکتا تو کتوں اور اِس کے مابین فاصلہ گھٹ جاتا، یہ گھر پہنچنا چاہتا تھا کہ وہاں پوٹلی میں موجود غذا کے لیے زندگی انتظار کھینچ رہی تھی۔ لیکن یہ ایک لمحہ کے لیے ٹھہر گیا کہ ماں کی محبت زنجیر بن گئی۔
اگلے ہی لمحے کتے سر پر آن پہنچے تھے، اگر یہ پوٹلی میں موجود غذا کا کچھ حصہ کتوں کے آگے نہ ڈالتا تو سب کچھ ختم ہو جاتا۔ کتے معمولی غذا پر یوں ٹوٹ پڑے جیسے صدیوں کے بھوکے ہوں۔ کتے آن کی آن میں غذا چٹ کرکے اِس کی اور لپکے، قبرپر پھول کی پتیا ں بے چین ہو کر اِدھر سے اُدھر ہوئیں، اِس کو بھاگنا تھا، سو بھاگا۔ یہ گلی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا اور چند ہی لمحوں میں قبرستان کے احاطے کے ساتھ ساتھ کھیل کے میدان میں داخل ہو جائے گا۔
بستی کا اکلوتا میدان جو سارا دِن بازو وا کیے لیٹا رہتا تھا، اس کے سینے پر جابہ جا اِس کے پاؤں کے نشانات ثبت تھے۔ جیسے ہی کھیل کے میدان میں پہلا قدم پڑا فتح کا جذبہ جسم کے خلیوں میں سرایت کرکے ایک نئی روح پھونک گیا۔ یہ تیزی سے میدان کو پھلانگتا، ریت کے ٹبہ پر جا پہنچا جہاں بستی کے بڑے بوڑھے، دِن کے پچھلے پہر بچوں اور نوجوانوں کے کھیل دیکھنے آ بیٹھتے اور بیتے لمحوں کو یاد کرتے۔ یہ پیچھے مُڑ کر دیکھتا ہے تو کتے گز بھر زبانیں لٹکائے میدان میں داخل ہو رہے تھے۔ یہ اسی رفتار سے بھاگتا رہا تو پوٹلی سمیت بہ حفاظت گھر تک پہنچ جائے گا۔
ریت کے ٹبہ سے ہوتا، سرکنڈوں میں سے گزرتا، یہ اُونچے میناروں والی گلی میں پہنچ جاتا ہے۔ گلی میں پہلا قدم پڑتے ہی تحفظ کا احساس رگ رگ میں سماتا چلا گیا، ذہن میں آیا کہ حفاظت اور رحمت کے دروازے سے اندر پناہ لے اور مصیبت جو موت بن چکی، سے چھٹکارا پا لے، مگر اگلے ہی لمحے خیال کو رَد کرنا پڑا، کتوں کا کیا بھروسہ؟ عبادت گاہوں کے تقدس کو کیا جانیں؟
یہ یہاں سے اُس گلی، جہاں ایک گھر کی کھڑکی ہمیشہ اِس کے لیے کھلی رہتی، میں داخل ہو جائے گا۔ کھلی کھڑکی سے جھانکتی زندگی اِس کی متاع تھی۔ کھڑکی حسبِ معمولی کھلی ملی، پاس سے گزرتے ہوئے لطیف احساسات نے انگڑائی لی لیکن کتوں کی بھیانک آوازوں نے احساسات کو رَوند ڈالا۔ یکایک یوں لگا کہ کھڑکی سے جھانکتی آنکھیں بے نور ہو گئی ہیں۔
یہ اپنے گھر کی گلی میں داخل ہوتے ہی ایکا ایکی بوڑھا ہوگیا۔ اِس کا طاقت ور جسم نحیف اور مضبوط پٹھوں والی ٹانگیں منزل کے قریب پہنچ کر جواب دے گئیں۔ کیا مَیں صدیوں سے بھاگ رہا ہوں؟ رزق کی تلاش کے لیے گھر سے آج ہی نکلا تھا؟ شاید ہاں ……یا شاید نہیں …… تذبذب کے ننھے کیڑے کاٹتے ہیں۔ مَیں خود کون ہوں، ہوں بھی یا نہیں اگر’ہوں’ تو اچانک بوڑھا کیوں ہوگیا ہوں؟
وہ بوڑھا جو گھر میں کھاٹ پر پڑا غذا کا انتظار کھینچ رہا ہے، کون ہے ……؟ تذبذب کے ننھے کیڑے کاٹتے ہیں …… بستی اِس کی اپنی ہے؟ جہاں پیدا ہوا، پلا بڑھا؟ اگر اپنی ہے تو بستی والے پہچانتے کیوں نہیں، سب ایک دوسرے کی پہچان سے انکاری کیوں ہیں؟ پوٹلی میں موجود معمولی غذا کتے چھیننا کیوں چاہتے ہیں؟ حالانکہ اِن کے برتنوں میں ضائع ہونے والے راتب کے سامنے،اس معمولی غذا کی کوئی وقعت نہیں …… تذبذب کے ننھے کیڑے کاٹتے ہیں ……
مَیں کسی دوسری بستی جو اِس کرّہ کے نقشہ پر نہیں، آ گیا ہوں، جہاں غاصبوں کی حکمرانی ہے؟ مگر اگلے ہی لمحے، چوراہا کے بیچوں بیچ ٹاہلی پر بیٹھی فاختہ، ماں کی قبر پر مُرجھائے پھولوں کی پتیوں کا بے چین ہو کر اِدھر اُدھر ہونا اور کھڑکی میں نم آلود آنکھوں، جیسے واقعات، اِس کو اپنی بستی کا پتہ دیتے ہیں۔
اس سے قبل سانسیں بے اعتبار ہو جائیں، پوٹلی سمیت ازل سے بھوکے کتوں کا نوالہ بن جائے، ایک قوت صَرف کر کے گھر میں داخل ہو کر کنڈی چڑھا دروازے سے ٹیک لگا کر ہانپنا شروع کر دیتا ہے۔ کتے دروازے پر پہنچ کر یوں زور زور سے بھونکتے ہیں جیسے دروازہ توڑ اندر آیا ہی چاہتے ہیں۔ یہ ایک عرصہ ہانپ کر کچھ سستا لیتا ہے تو سامنے کھاٹ پر نظر ڈالتا ہے، کھاٹ پر پڑی زندگی کا انتظار مکمل ہو چکا ہوتا ہے۔ اگلے ہی لمحے پوٹلی پر گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ یہ دروازے سے پشت رگڑتا رگڑتا اکڑوں بیٹھ جاتا ہے۔
پھر ایک مُدت گزرجاتی ہے تو بچی کچھی قوت کے سہارے کنڈی کھول، پوٹلی باہراُچھال دیتا ہے۔ کنڈی چڑھا کر ایک بار پھر دروازے سے پشت رگڑتا رگڑتا اکڑوں بیٹھ جاتا ہے۔ اوسان خطا ہونے سے پہلے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں، سماعت کا حصہ بنتی ہیں۔