ہانگ کانگ اگرچہ قانونی طور پر چین کا حصہ بن چکا ہے مگر وہاں جمہوری قوانین اور آزادی اظہار رائے جیسی روایات موجود تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں آئے روز چینی حکومت کے خلاف مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔
چینی حکومت ان مظاہروں کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہونے کا الزام لگاتی ہے جس میں کافی حد تک سچائی بھی نظر آتی ہے۔
چین نے دولت بیگ کے قریب بھارت کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا
وادی گالوان میں فوجی جھڑپ، چین نے واقعات کی مکمل تفصیل بتا دی
حال ہی میں ان مظاہروں میں شدت آ گئی اور کئی لوگ چین سے آزادی کا نعرہ بھی بلند کرنے لگے جس کے بعد حکومت حرکت میں آئی اور نئے قوانین کے ذریعے ہانگ کانگ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔
حال ہی میں چینی حکومت نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے مطابق اگر دنیا بھر میں کسی شخص نے چینی حکومت پر تنقید کی ہو گی تو اسے ہانگ کانگ کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔
اس قانون کے مطابق ٹرانزٹ کے لیے ہانگ کانگ کے ایئرپورٹ پر اترنے والے بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہوں گے اور انہیں حراست میں لے لیا جائے گا، اس میں چینی اور غیرملکی دونوں شامل ہیں۔
ہانگ کانگ کئی دہائیوں تک برطانیہ کے زیرتسلط رہا تھا جس کے بعد اسے چین کے حوالے کر دیا تھا، اس دوران ہانگ کانگ میں اپنی آواز بلند کرنے کی آزادی قائم رہی۔
چینی حکومت سے اختلاف کرنے والے، مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے دانشور اور این جی اوز کے کارندے یہاں آزادانہ گفتگو کر سکتے تھے۔ تاہم اب یہ سب کچھ ممکن نظر نہیں آتا۔
گزشتہ دنوں ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو کیری لیم نے اس قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے گزشتہ کئی ماہ سے جاری افراتفری اور انتشار کا خاتمہ ہو گا۔
اس قانون کے تحت ہانگ کانگ کے پینل کوڈ میں چار نئے جرائم کا اضافہ کیا گیا ہے جن میں علیحدگی پسندی، بغاوت، دہشت گردانہ سرگرمیاں اور کسی دوسرے ملک کے ساتھ گٹھ جوڑ شامل ہیں، ان کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید مقرر کی گئی ہے۔
اس نئے قانون کا سیکشن 38 کہتا ہے کہ یہ قانون ہانگ کانگ سے باہر دیگر ممالک کے افراد پر بھی لاگو ہو گا۔
چین میں بھی ضابطہ فوجداری کے دفعہ 8 میں اس سے ملتا جلتا قانون موجود ہے لیکن وہ نسبتاً نرم ہے جبکہ ہانگ کانگ کے لیے اس سے سخت قانون بنایا گیا ہے۔