حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ تھائی لینڈ میں بندروں کے ذریعے ناریل حاصل کیے جاتے ہیں جس کے بعد بہت ساری سپرمارکیٹس نے ناریل کے پانی، تیل اور دیگر مصنوعات کو شیلفوں سے ہٹا دیا ہے۔
پیپل فار ایتھیکل ٹریٹمنٹ آف اینیمل کا کہنا ہے کہ بندروں کو جنگلات سے پکڑ کر انھیں روزانہ ایک ہزار ناریل چننے کی تربیت دی جاتی ہے۔
جانوروں کے حقوق کے گروپ کا کہنا تھا کہ میکاکس بندروں کے ساتھ ناریل چننے والی مشین جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
اس انکشاف کے بعد ویٹروز، اوکاڈو، کوپ اور بوٹس نے ناریل سے بنی کچھ اشیاء کی فروخت روک دی ہے جبکہ موریسن کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلے سے ہی بندروں کی چنائی شدہ ناریل سے بنی اشیاء کو نکال کر پھینک دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں ویٹروز نے کہا ہے کہ جانوروں کی فلاح و بہبود ہماری پالیسی کا حصہ ہے اور دانستہ طور پر ہم نے کبھی بھی بندروں کی مشقت سے حاصل کردہ مصنوعات کو فروخت نہ کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔
اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم فیانسی کیری سائمنڈ نے ان اعلانات کا خیرمقدم کیا ہے اور باقی سپر مارکیٹوں سے بھی کہا ہے کہ وہ جلد ان مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔
بی بی سی میں شائع خبر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تھائی لینڈ میں بندروں سے زبردستی ناریل کی چنائی کرائی جاتی ہے جسے پوری دنیا میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے۔
ایک بندر روزانہ 1000 ناریل چنتا ہے جبکہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک انسان روزانہ 80 ناریل چن سکتا ہے۔ بندروں کو غیر قانونی طور پر جنگلات سے پکڑا جاتا ہے جن کو اسکول میں ناریل چننے کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو لطف اندوز کرنے کے لیے انھیں بائیک چلانا اور باسکٹ بال کھیلنا بھی سکھایا جاتا ہے۔ بندروں کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا جاتا ہے جو کہ جانوروں کی آزادی کے خلاف ہے۔