• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے وزیراعظم کے اثاثوں اور ٹیکس پر سوالات اٹھا دیے

by sohail
جولائی 10, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے چیئرپرسن ایف بی آر کی اچانک تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کے اثاثوں اور ٹیکس بارے سوالات اٹھا دیے۔

انہوں نے36  صفحات پر مشتمل دستاویزات کمشنر انلینڈ ریوینیو ذوالفقار احمد کو جمع کرائیں جن میں انہوں نے اپنے بیرون ملک اثاثوں کی منی ٹریل سمیت دیگر معاملات پر بھی بات کی۔

سرینا عیسیٰ نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایف بی آر کو وزیراعظم عمران خان سے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ مجھ سے کم ٹیکس کیوں دیتے ہیں؟ کم ٹیکس دینے کے باوجود وہ اتنی مہنگی جائیداد کیسے خریدتے ہیں؟ کم آمدنی کے باوجود وہ بنی گالہ کے تین سو کنال کے محل میں کیسے رہے ہیں؟

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ کیا ایف بی آر کو عمران خان، شہزاد اکبر، سابق اٹارنی جنرل انور منصور اور سابق وزیر قانون فروغ نسیم سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے میرا پراپرٹی ریکارڈ غیرقانونی طور پر حاصل کرکے کے اوپن کیسے کیا؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید موقف اپنایا کہ خاتون چیئرمین ایف بی آر نوشین جاوید امجد کو ہٹا دیا گیا، یوں لگتا ہے جیسے وہ ہم خیال ٹولے کے احکامات پر عمل کرنے کو تیار نہیں تھیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پوری ایف بی آر کو سپریم کورٹ کے ایک جج کو ہٹانے کے کام پر لگا دیا گیا ہے، صرف 3 ماہ کے لیے نیا چیئرمین ایف بی آر لگانا بلاشبہ ‘اوپر سے’ ملنے والی ہدایات کا تسلسل ہے۔

جمع کرائی گئی دستاویزات میں مزید کہا گیا ہے کہ رضاکارانہ طور پر آگے آ کر اپنی جائیداد ظاہر کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے یہ ٹولہ مجھ پر حملہ آور ہو رہا ہے، کیا ایسا اس لیے ہے کہ میں ایک خاتون ہوں اور یہ ٹولہ کسی خاتون کی معاشی خود مختاری کو برداشت نہیں کرتا، مجھے بتایا جائے کہ کتنی ایسی خواتین ہیں جو تنخواہ نہیں لے رہیں لیکن ٹیکس ادا کرتی ہیں؟

انہوں نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال سے مجھے مجرم کی طرح ہراساں کیا جا رہا ہے اور میری تضحیک کی جا رہی ہے، مجھے الزام نہ دیا جائے تو کیا میں عمران خان، عبد الوحید ڈوگر، شہزاد اکبر، فروغ نسیم اور اشفاق احمد سے پوچھ سکتی ہوں کہ وہ اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے گوشوارے کب ظاہر کریں گے؟ مجھے ان کے گوشواروں کی کاپی دی جائے اور بتایا جائے کہ انکم ٹیکس کب سے دینا شروع کیا، کیا ایف بی آر ان سب کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے جیسے میرے ساتھ کیا جا رہا ہے؟

انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ریاست مدینہ کے قیام کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ایک ٹیکس ادا کرنے والی خاتون کو اس کے سوالوں کا جواب دینے میں یہ لوگ خوشی محسوس کریں گے، مجھے امید ہے کہ وہ لوگ بتائیں گے کہ وہ اور ان کے بیوی بچے کتنا ٹیکس دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایف بی آر قانون کا مساوی اطلاق ان کا آلہ کار  بننے کے تاثر کو زائل کرے گا، ایف بی آر نے جو معلومات مجھ سے پوچھیں وہ میں نے فراہم کر دیں، کیا میں اب پوچھ سکتی ہوں کہ ایف بی آر کو مجھ سے یہ معلومات کیوں درکار تھیں؟

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کے مطابق ایف بی آر نے کہا ہے کہ میں اپنے دفاع میں مزید دستاویزات اور شہادتیں جمع کرا سکتی ہوں، ایف بی آر نے ابھی تک مجھے یہ نہیں بتایا کہ میں اپنے خلاف کس الزام کا دفاع کر رہی ہوں، اس لیے میں آپ کی پیش کش سے استفادہ نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ برائے کرم مجھے بتایا جائے کہ مجھ پر کیا الزام ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر میں 14 دستاویزات بھی جمع کرا دیں جن میں 2018-2019 کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ تفصیلات میں لندن جائیدادوں کی خریداری، رقوم کی بیرون ملک منتقلی سمیت منی ٹریل کی دستاویزات اور ریکارڈ جمع کرا دیا گیا ہے۔

منی ٹریل کے حوالے سے جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے موقف اختیار کیا کہ یہ بات قابل ستائش ہے کہ لندن جائیداد ہم نے اپنے اور بچوں کے نام رکھیں، اگر ہم ملکیت چھپانا چاہتے تو آسانی کے ساتھ آف شور کمپنی کے ذریعے ملکیت چھپا سکتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو عمران خان اور ان کے ہم خیال ٹولے سے پوچھ لیں کہ کیسے بیرون ملک جائیدادوں کی ملکیت چھپائی جاتی ہے، ہم سے منی ٹریل کا پوچھا جا رہا ہے، مجھے نہیں پتا یہاں منی ٹریل کا کیا مطلب ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تناظر میں وضاحت کی جائے کہ لفظ منی ٹریل کہاں لکھا ہوا ہے، اس کی نشاندہی کی جائے تو ہم آسانی کے ساتھ جائیدادوں کا جواب دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا پرانا ریکارڈ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں کراچی امریکن سکول میں پڑھاتی رہی، وہاں میں شادی سے قبل پڑھاتی تھی، میری اسکول کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کاٹا جاتا تھا، میں نے آر ٹی او کراچی کے پاس اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرانا شروع کیے، میرا وکیل میرے ٹیکس گوشوارے جمع کراتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں تک امریکن اسکول میں پڑھانے کے بعد میں نے استعفیٰ دے دیا، کراچی میں ایک جائیداد میں ایک دوست کے ساتھ شراکت داری تھی جسے ہم نے کرائے پر دیا، میں کراچی کی جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن پر ٹیکس دیتی رہی، میری جیکب آباد، ڈیرہ مراد جمالی اور نصیر آباد میں زرعی اراضی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے وکیل نے بتایا زرعی زمین پر انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ایف بی آر نے مجھ سے لندن کی تین جائیدادوں کی فروخت کے معاہدے کی کاپی مانگی ہے، ایسی کوئی دستاویزات میرے پاس نہیں ہیں، لندن میں جائیداد کی خریدوفروخت کا تمام عمل وکیل کے ذریعے ہوتا ہے، لندن میں جائیداد خریدنے والا بیچنے والے کو پیسے نہیں دیتا۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم وکیل نے جائیدادوں کی خریداری کے لیے کون سی دستاویزات تیار کیں، ایف بی آر لندن جائیدادوں کی سیل ڈیڈ طلب کر رہا ہے، لندن کی ایک جائیداد کی سیل ڈیڈ نہیں ہے، میں نے لندن کی ایک جائیداد طویل عرصے کے لیے لیز پر حاصل کی جس میں میری بیٹی کا نام بعد میں شامل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھ سے لندن کی ہر جائیداد کے لیے سرمایہ کاری کا حجم پوچھا جا رہا ہے، ایف بی آر وضاحت کرے کہ وہ کیا پوچھنا چاہتا ہے، عمومی طور پر پاکستان میں جائیداد کی قمیت خرید اصل قیمت سے کم ظاہر کی جاتی ہے، قیمت خرید کم ظاہر کرنے کا مقصد ٹیکس سے بچنا یا حلال کی کمائی کی کمی ہوتا ہے، لندن میں جائیداد کی قمیت خرید کم ظاہر نہیں کی جاتی، میں نے لندن کی جائیدادوں کی خریداری کے لیے جو ادائیگی کی وہی ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے علم کے مطابق اگر جائیداد کی مالیت ڈھائی لاکھ پاؤنڈ سے کم ہو تو اس پر اسٹیمپ ڈیوٹی لاگو نہیں ہوتی، میں برطانیہ میں موجود تمام جائیدادوں پر ٹیکس ادا کر رہی ہوں، جب کراچی میں رینٹ پر دی گئی جائیداد بیچی تو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے بند کر دیے، ایف بی آر کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے کہ میں قابل ٹیکس آمدن پر انکم ٹیکس ادا کرتی رہی ہوں۔

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ نے مزید کہا کہ 2018 میں پاکستان میں قانون بنایا گیا کہ بیرون ملک جائیدادوں کو گوشواروں میں ظاہر کیا جائے، میں نے ایف بی آر کے نوٹس کا انتظار کیے بغیر نئے قانون پر عمل داری کے لیے ٹیکس وکیل سے رابطہ کیا، مجھے بتایا گیا کہ میرا آر ٹی او کراچی سے اسلام آباد ٹرانسفر کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے 31 جنوری 2020 کو ڈاکٹر اشفاق سے رابطہ کیا لیکن جواب موصول نہیں ہوا، سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی مداخلت سے میرا آر ٹی او دوبارہ کراچی ٹرانسفر کر دیا گیا، 2018 میں میری قابل ٹیکس آمدن 40 لاکھ 70 ہزار 8 سو 64 روپے تھی، میں نے اس آمدن پر پانچ لاکھ 76 ہزار 540 روپے ٹیکس دیا، 2019 میں میری قابل ٹیکس آمدن 53 لاکھ 31 ہزار 76 روپے تھی، 2019 میں اس آمدن پر 8 لاکھ 9 ہزار 970 روپے ٹیکس دیا، اگر اب مجھے بتائے بغیر دوبارہ آر ٹی او تبدیل کر دیا جائے تو پھر نوٹس کیسے جاری کیا جائے گا؟

جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مجھے ہراساں کیا جا رہا ہے اور تضحیک کی جارہی ہے، میرے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، مجھ پر الزام لگایا جارہا ہے کہ میں نوٹس وصول نہیں کر رہی ہوں، 25 جون کو جب نوٹس جاری کیا گیا اسی روز میرے والد کی وفات ہوئی، میری رہائش گاہ پر میرے اسٹاف کی موجودگی میں نوٹس چسپاں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو وہ باتیں جاری کی گئیں جو میں نے کی ہی نہیں، مجھے مجبوراً اس جواب کی کاپی میڈیا کو جاری کرنی پڑ رہی ہے جو میں نے ایف بی آر میں جمع کرایا، نوٹس چسپاں کیا گیا جس سے میں نے خود کو مجرم محسوس کرنا شروع کر دیا ہے، میرے جواب کی 6 صفحات پر مشتمل کاپی پی ٹی آئی کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، ایف بی آر میں جمع کرائے گئے میرے جواب کا متن میڈیا کو غلط طور پر جاری کیا گیا، عدالت سے استدعا کرتی ہوں کہ میرے اکاؤنٹ کی تفصیلات کسی کو نہ دی جائیں۔

Tags: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
sohail

sohail

Next Post

کورونا کی معمولی علامات والے مریضوں میں خطرناک دماغی امراض کا انکشاف

صدف زہرا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو مل گئی

لیاری آپریشن کے بعد پیپلز پارٹی نے عزیر بلوچ کو 5 کروڑ روپے دیے، حبیب جان بلوچ

ایمازون نے اپنے ملازمین کو موبائل فون سے ٹک ٹاک ایپ ہٹانے کا کیوں کہا؟

پائلٹس کی مشکوک ڈگریاں، سی اے اے نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرا دی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In