سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے ذریعے انتہائی مہلک اور خطرناک دماغی امراض کے جنم لینے کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔
انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ ڈاکٹرز کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے یا معمولی علامات والے مریضوں میں انتہائی مہلک اور خطرناک دماغی امراض کی علامات کو نظر انداز کر رہے ہوں۔
ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ علامات عام طور پر کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے یا کم متاثرہ افراد میں ظاہر ہوتی ہیں۔
دماغی امراض کے ماہرین نے برطانیہ میں 40 سے زیادہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تفصیلات شائع کی ہیں جن میں دماغی سوزش اور ذہنی خلفشار سے لے کر اعصابی نقصان اور اسٹروک یا فالج جیسی پیچیدگیاں پائی گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کچھ کیسز میں تو دماغی مسئلہ ہی مریض کی پہلی اور اہم علامت ہوتی ہے۔
دی برین جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں ان کیسز میں ایک جان لیوا بیماری کا انکشاف کیا گیا ہے جسے انسفیلیو مائیلیٹس یا ایڈم کہا جاتا ہے، ایک 59 سالہ خاتون اسی پیچیدگی کے باعث جاں بحق ہو گئی۔
تحقیات کے مطابق تقریباً ایک درجن سے زائد مریضوں کے مرکزی دماغی نظام میں سوزش، 10 مریضوں میں سائیکوسس یا دماغی خلفشار، 8 مریضوں کو اسٹروک اور مزید 8 مریضوں کے پیریفیرل نروس سسٹم میں پیچیدگیاں سامنے آئیں۔
اس کے علاوہ بیئر سینڈروم ایک ایسی پیچیدگی یا مدافعتی ردعمل ہے جو اعصاب پر حملہ آور ہوتا ہے اور فالج کا سبب بنتا ہے، یہ مرض 5 فیصد کیسز میں مہلک ثابت ہوا ہے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس دماغ کو متاثر کرتا ہے جو ایک نئی بات ہے کیونکہ پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وائرس دماغ کو متاثر کریں۔
دی گارڈین میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق سائنسدانوں نے دنیا بھر کے ڈاکٹرز کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ مریضوں میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی ان پیچیدگیوں کے متعلق الرٹ ہو جائیں۔
انہوں نے ہدایت کی ہے کہ جن مریضوں میں جسمانی تھکاوٹ، سن ہونے کی کیفیت، جسمانی کمزوری اور دماغی مسائل ظاہر ہوں، انھیں دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹروں کے پاس بھیج دیا جائے۔