صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ علی سلمان علوی کی اہلیہ صدف زہرا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو مل گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں 38 سالہ صدف زہرا کی موت کی وجہ سانس بند ہونا بتائی گئی ہے، ان کی میت 29 جون کو دوپہر 2 بج کر 50 منٹ پر ملی تھی۔
رپورٹ کے مطابق ان کے دائیں رخسار پر نشان تھا جبکہ ان کا ہونٹ سوجا ہوا تھا اور ان کے چہرے پر نیل پڑے ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق صدف زہرا کے معدے، گردوں اور جگر کے نمونے فارنزک لیب میں بھیجوا دیے گئے ہیں۔
ان کی موت کی حقیقی وجہ فارنزک لیب سے رپورٹ سامنے آنے کے بعد متعین کی جا سکے گی۔
مقدمے کا پس منظر
29 جون کو علی سلمان علوی کے خلاف مقتولہ کی بہن سیدہ مہوش زہرہ نے ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ ملزم نے صدف زہرا کو تشدد کر کے قتل کیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتولہ کے ہاتھوں اور چہرے پر تشدد کے نشانات موجود تھے۔
مہوش زہرہ نے کہا کہ ملزم نے فون پر انہیں گھر بلایا اور جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ مقتولہ کی لاش چھت والے پنکھے سے لٹک رہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بہنوئی اپنی اہلیہ پر تشدد کیا کرتے تھے، انہیں کئی بار سمجھایا مگر وہ اپنی حرکتوں سے بعض نہیں آئے۔
راولپنڈی پولیس نے اسی دن ملزم علی سلمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت قتل کر مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔