جمعہ کے روز ایمازون میں کام کرنے والے اسٹاف کو ایک انٹرنل میمو جاری کیا گیا جس میں ملازمین کو فوری طور پر ٹک ٹاک ایپ ختم کرنے یا ہٹانے کا کہا گیا۔
ایمازون نے کہا تھا کہ کمپنی کی جانب سے ٹک ٹاک کو ہر قسم کی موبائل ڈیوائس سے ہٹانے کی ہدایت اس خدشہ کے پیش نظر کی گئی کہ کہیں کوئی ان کی کمپنی کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔
مگر اب ایمازون نے وضاحت کی ہے کہ یہ ای میل غلطی سے ان کے ملازمین کو بھیجی گئی۔
یہ ایپ ایک چینی کمپنی کی ملکیت ہے جس کی جانچ پڑتال اس خدشے کے پیش نظر کی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے ایمازون کا ڈیٹا چین کے ساتھ شیئر کیا جا سکتا ہے۔
ٹک ٹاک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک ایمازون کی جانب سے اس تشویش اور خدشات کو سمجھ نہیں پائے۔
ایمازون کمپنی کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ملازمین کو بھیجی جانے والی ای میل غلطی پر مبنی ہے اور ٹک ٹاک کے حوالے سے ہماری پالیسی میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی
تاہم ملازمین کو بھیجی گئی ای میل میں فوری طور پر ٹک ٹاک ایپ کو ہٹانے کی ہدایت کی گئی تھی، میل میں مزید کہا گیا کہ یہ ایپ ایمازون کے ای میل تک رسائی حاصل کر سکتی ہے اور سیکیورٹی خدشہ کے پیش نظر 10 جولائی تک ہر صورت ٹک ٹاک کو اپنے موبائل فونز سے ہٹا دیا جائے۔