ویڈیو اسکینڈل انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے دباؤ کے تحت نواز شریف سے ملاقات کرنے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے جرائم پیشہ گروہ میں رضا کارانہ شمولیت اختیار کی، انہوں نے ثبوت نہیں دیا کہ انہیں خوفزدہ کیا گیا تھا، ارشد ملک یہ بھی نہیں ثابت کر سکے کہ انہوں نے مرضی کے خلاف متنازع کام کیا ہے۔
انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک کی نواز شریف ، حسین نواز، ناصر بٹ سمیت دیگر سے ملاقاتوں کو اتفاقی قرار نہیں دیا جا سکتا، ملزم جج ارشد ملک کی ان تمام افراد سے ملاقاتیں ضابطہ اخلاق کی دفعہ 7 ، 30 اور 31 کی خلاف ورزی ہے۔
جج ارشد ملک کے ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ جسٹس سردار احمد نعیم نے تیار کی ہے، رپورٹ 13 صفحات پر مشتمل ہے۔
ویڈیو اسکینڈل کی انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ اور مہر ناصر کی جج ارشد ملک تک ہمیشہ سے رسائی تھی۔
نیب ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کے بعد جج ارشد ملک جاتی امرا میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے بھی ملے، اس کے علاوہ انہوں نے عمرہ کے دوران حسین نواز سے ملاقات بھی کی۔
انکوائری رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ جج ارشد ملک نے فیصلے کے خلاف تیار کی گئی سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیل کا جائزہ بھی خود لیا، انکوائری کے دوران ارشد ملک نے تسلیم کیا کہ ویڈیو بنانے والے محمد طارق سے جان پہچان تھی، ارشد ملک نے دھمکیوں سے متعلق کبھی بھی افسران کو آگاہ نہیں کیا، ارشد ملک نے دباؤ کے تحت ملاقات کا ثبوت بھی نہیں دیا۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے عمرے کے دوران حسین نواز سے ملاقات کرنے کے علاوہ ناصر بٹ سے رابطہ بھی کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مدینہ منورہ میں جج ارشد ملک کی حسین نواز کے ساتھ ملاقات کو اچانک قرار نہیں دیا جاسکتا، ارشد ملک کی عمرہ کے دوران حسین نواز کے ساتھ ملاقات طے شدہ تھی۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق جج ارشد ملک نے دستاویزات میں غیر مصدقہ کاپی فراہم کیں، جج ارشد ملک کے خلاف مس کنڈکٹ کا الزام ہے جس کی انھوں نے تردید نہیں کی، ارشد ملک کی جانب سے اپنے دفاع میں جاری کی گئی پریس ریلیز بھی مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتی ہے، موقع دینے کے باوجود وہ اپنے دفاع میں کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار احمد نعیم کی جانب سے تیار کی گئی انکوائری رپورٹ میں ارشد ملک نے یہ انکشاف کیا ہے کہ انہیں استعفی دینے کے لیے پانچ سو ملین کی آفر کی گئی تھی۔
ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی کہا کہ دباؤ ڈالا گیا کہ استعفی دوں اور کہوں کہ نواز شریف کے خلاف ریفرنسز دباؤ کے تحت دائر کیے، انکوائری رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل میں اپنے دفاع کے لیے ایک گواہ پیش نہ کر سکے۔