کویت کی آبادی کا 70 فیصد حصہ غیرملکیوں پر مشتمل ہے، ملک کی قومی اسمبلی میں اس وقت قانون سازی کے لیے کوششیں جاری ہیں جن کا مقصد آبادی میں غیرملکیوں کا حصہ کم کرنا ہے۔
اس حوالے سے حکومت نے جو منصوبہ پیش کیا ہے اس کے تحت سب سے زیادہ بھارتی شہری متاثر ہوں گے جن کی تعداد دیگر ممالک کے باشندوں سے کہیں زیادہ ہے۔
منصوبے کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں مقیم بھارتی شہریوں کی تعداد کل آبادی کے 15 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیئے جبکہ مصری، بنگلہ دیشی اور فلپائن کے شہری 10 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھنے چاہئیں۔
کویت کی پارلیمانی ہیومن ریسورسز ڈیویلپنٹ کمیٹی کے سربراہ خلیل الصالح نے جو پلان پیش کیا ہے اس میں غیرملکیوں کی تعداد میں بہت بڑی کمی لائی جائے گی۔
اسپیکر اسمبلی مرزوق الغنیم اور دیگر حکومتی عہدیدار اس منصوبے پر فوری عملدرآمد کو ممکن نہیں سمجھتے لیکن اصولی طور پر تمام افراد اس بات پر متفق ہیں کہ کویت میں غیرملکیوں کی تعداد میں بڑی کمی لائی جائے۔
کویت ٹائمز کے مطابق اسپیکر نے اس ہفتے کہا تھا کہ وہ دیگر اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر ایک قانون پیش کرنے والے ہیں جس کے بعد حکومت کے لیے غیرملکیوں کی تعداد میں مرحلہ وار کمی لازمی ہوجائے گی۔
کویت کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیرداخلہ انس الصالح نے گزشتہ ہفتے وعدہ کیا تھا کہ وہ 14 دن میں اس حوالے سے قانون کا مسودہ قومی اسمبلی میں پیش کر دیں گے۔
وزیراعظم شیخ صباح الخالد کا کہنا ہے کہ ملک میں آبادی کا مثالی توازن 70 فیصد کویتی اور 30 فیصد غیرملکی ہونا چاہیئے لیکن اس وقت صورتحال اس سے الٹ ہے۔
کویت ٹائمز کے مینیجنگ ڈائرکٹر ریون ڈی سوزا کا کہنا ہے کہ اس خواہش پر عملدرآمد مرحلہ وار انداز میں ہی ممکن ہے، یہ ایک بے بنیاد تاثر ہے کہ ملک سے غیرملکیوں کو یکلخت بڑے پیمانے پر نکال دیا جائےگا۔
اس وقت کویت کی کل آبادی 43 لاکھ ہے جس میں سے کویتیوں کی تعداد 13 لاکھ ہے جبکہ ملک میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے 14 لاکھ بھارتی باشندے قیام پذیر ہیں۔
اگر بھارتی شہریوں کی تعداد 15 فیصد تک محدود کر دی جاتی ہے تو صرف 2 لاکھ افراد کویت میں رہ پائیں گے۔
ماضی میں کویت کے شہریوں میں پائی جانے والی بیروزگاری، آبادی کا عدم توازن اور معاشی بحران نے اس بحث کو جنم دیا ہے، کورونا وبا نے اس معاملے کو مزید مہیز کیا ہے۔