سپریم کورٹ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے خلاف درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی نوٹس جاری کردیا ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیئے کہ شاید سندھ کی مقامی حکومتوں کے حوالے سے کوئی درخواست دائر ہوئی ہے۔
وکیل نوازش علی پیرزادہ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے صرف پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 چیلنج کیا ہے، سندھ کا معلوم نہیں۔
دلائل میں وکیل نے کہا کہ تمام منتخب نمائندوں نے 31 دسمبر 2016 کو حلف لیا تھا، منتخب ممبران کی مدت آئین کے تحت پانچ سال تھی، پنجاب حکومت نے نیا ایکٹ لاکر آئین کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی کی۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ درخواست عوامی مفاد کے تحت دائر کی گئی ہے، اس پر مطمئن کریں۔
وکیل نے کہا کہ میرے موکلان ساہیوال، لودھراں، سرگودھا، فیصل آباد سمیت مختلف علاقوں سے منتخب ہونے والے نمائندگان ہیں، حکومت ایسی قانون سازی نہیں کر سکتی جو خلا پیدا کر دے، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 کے ذریعے پوری ریاست کا کام رک چکا ہے،
حکومت موجودہ نمائندگان کی معیاد مکمل ہونے کے بعد یہ قانون لاگو کر سکتی تھی، منتخب نمائندوں کے تمام اختیارات انتظامیہ کو دے دیے گئے ہیں۔
جسٹس مشیر عالم نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے ایکٹ کو معطل کرنے کی درخواست دی ہے جس پر وکیل نے کہا کہ علیحدہ درخواست نہیں دی گئی، کیس میں استدعا ہے۔
بعدازاں عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کیے اور سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔
