کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا کو متاثر کیا وہیں کچھ ممالک کو اس وبا نے بری طرح سے اپنی لپیٹ میں لیا ہے، اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے۔
یہ بات عالمی میڈیا میں مسلسل کہی جاتی رہی کہ اس وبا کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کبھی ماسک پہنے نظر نہیں آئے جبکہ ہیلتھ حکام کی جانب سے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے ماسک کا استعمال ضروری قرار دیا گیا تھا۔
اس وجہ سے جب ہفتے کے روز صدر ٹرمپ ملٹری ہسپتال کے دورے کے دوران پہلی بار ماسک پہنے ہوئے نظر آئے تو یہ بین الاقوامی میڈیا کی بڑی خبر بن گئی۔
صدر ٹرمپ ہیلی کاپٹر کے ذریعے واشنگٹن کے مضافات میں واقع والٹر ریڈ نیشنل ملٹری میڈیکل سینٹر کے دورے پر پہنچے جہاں انھوں نے زخمی جوانوں اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والوں سے ملاقات کی، انہوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج پر مامور عملے سے بھی ملاقات کی۔
وائیٹ ہاؤس سے نکلتے ہوئے انھوں نے رپورٹرز سے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ خاص طور پر جب آپ کسی ہسپتال میں جاتے ہیں تو ماسک پہننا ایک بڑی یا اہم بات ہے۔
ٹرمپ نے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوتے ہوئے ماسک نہیں پہنا بلکہ جب وہ ہسپتال کے قریب پہنچے تو انھوں نے اس کا استعمال کیا۔
صدر ٹرمپ نے ماسک پہننے میں بڑی دیر کر دی، انہوں نے ایسی وبا کے دوران ماسک کا استعمال نہیں کیا جس نے امریکہ میں 30 لاکھ سے زائد افراد کو متاثر کیا اور جس سے تقریباً ایک لاکھ 35 ہزار لوگ لقمہ اجل بنے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ اب ماسک کا باقاعدہ استعمال کریں گے؟
صدر ٹرمپ نے نیوز کانفرنس، ریلیوں اور دیگر عوامی نقل و حمل کے دوران ماسک پہننے کو ترجیح نہیں دی جس کی وجہ سے ان پر شدید تنقید بھی کی گئی۔ اس کے برعکس ڈیموکریٹس اور ٹرمپ کے حریف جو بائڈن نے ماسک پہننے ہوئے نظر آئے ۔
یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی پہلے ماسک کا استعمال نہیں کرتے تھے اور ان کو اس سلسلے میں کافی تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ لیکن کچھ عرصہ سے میٹنگز اور دیگر مواقع پر وہ ماسک پہنے دکھائی دیتے ہیں۔