برطانیہ میں سائنسدانوں نے ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کے متعلق کی گئی ایک تحقیق میں ان عوامل کا پتا چلا لیا ہے جن کے باعث کورونا سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ریسرچ کا ڈیٹا
تحقیق کے دوران ریسرچرز نے برطانیہ کی آبادی کے 40 فیصد حصے کا صحت کا ریکارڈ دیکھا، کل ایک کروڑ 72 لاکھ سے زائد افراد میں سے 10 ہزار 926 کورونا کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔
ریسرچرز نے اس ڈیٹا کو اپنے ریکارڈ کا حصہ بنایا جسے وہ مسلسل اپ ڈیٹ کرتے رہیں گے۔
کیا معلوم ہوا؟
کورونا کے باعث ہلاکتوں کے عوامل میں سب سے پہلا عامل عمر تھی، سائنسدانوں کے مطابق 80 برس سے اوپر کی عمر کے افراد میں موت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
برطانیہ میں کورونا سے ہونے والی اموات کا 90 فیصد 60 سال سے اوپر کے افراد پر مشتمل تھا۔
ایک ہی عمر کے پیمانے پر دیکھا جائے تو خواتین کی نسبت مردوں میں اموات کی شرح زیادہ تھی، کورونا سے ہونے والی کل اموات کا 60 فیصد مرد تھے جبکہ خواتین میں یہ شرح 40 فیصد تھی۔
تحقیق کے مطابق مٹاپا، شوگر، شدید دمہ اور امراض قلب کے شکار افراد کے علاوہ کم آمدنی والوں میں کورونا سے اموات کی شرح زیادہ سامنے آئی۔
نسل کا کردار
نیچر جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ سیاہ فام اور جنوبی ایشیاء سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ دیگر اقلیتی گروہوں میں سفید فام افراد کی نسبت کورونا سے موت کا شکار ہونے کی شرح زیادہ تھی۔
تاہم ریسرچرز ان وجوہات کا تعین نہیں کر سکے جو نسل کی بنیاد پر اموات کی شرح بڑھا رہی تھیں۔
یاد رہے کہ امریکہ میں بھی سیاہ فام اور اٹلی سے تعلق رکھنے والوں میں کورونا سے اموات کی شرح سفید فام افراد کی نسبت دگنی ہے۔