مالی کے صدر ابراہیم بوبکر کیتا نے ملک میں پھوٹنے والے ہنگاموں کے بعد آئینی عدالت تحلیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
افریقی ملک میں اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے جب آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں مارچ میں ہونے والے عبوری انتخابات کو رد کر دیا تھا۔
جمعہ کے روز ان ہنگاموں میں 4 افراد ہلاک ہو گئے تھے جس کے بعد صدر ابراہیم بوبکر نے کہا تھا کہ وہ اس صورتحال کر برداشت نہیں کریں گے۔
مالی کے صدر سے استعفیٰ کا معاملہ زور پکڑ رہا ہے، ان کے مخالفین جہادی گروہوں کے متعلق حکومتی پالیسی، معاشی بحران اور متنازعہ انتخابات پر تنقید کر رہے ہیں۔
صدر ابراہم بوبکر نے اپوزیشن کو اتحادی حکومت سمیت کئی مراعات دینے کا اعلان کیا تھا مگر نئی متحدہ حزب اختلاف کے سربراہ محمود ڈیکو، جو ایک امام ہیں، نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔
ہفتے کو صدر نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ انہوں نے آئینی عدالت کے بقیہ اراکین کے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کی تحلیل کے بعد متعلقہ حکام کو اگلے ہفتے نئے اراکین نامزد کرنے کا کہہ دیا گیا ہے تاکہ اصلاح کے بعد وجود میں آنے والی عدالت انتخابات سے پیدا ہونے والے جھگڑوں کا فوری حل تلاش کرنے میں مدد کر سکے۔
حزب اختلاف نے الزام لگایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والے کئی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ہے اور ہمارے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کر کے وہاں سے سامان لوٹ لے گئی ہیں۔
جون سے شروع ہونے والے ہنگاموں کی یہ تیسری لہر ہے، اپوزیشن نے مارچ میں ہونے والے متنازعہ انتخابات کو رد کر دیا تھا اور حکومت کی جانب سے اصلاحات کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔
اس ہفتے حزب اختلاف نے صدر ابراہیم بوبکر کے استعفیٰ کا مطالبہ واپس لے لیا ہے لیکن وہ اصلاحات پر عمل ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کر چکی ہیں۔