سازشی نظریات پر یقین رکھنے والے ایک نوجوان نے کورونا کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے وبا سے متاثرہ شخص کے ساتھ محفل میں حصہ لیا جس کے باعث وہ خود اس وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے میتھوڈسٹ چرچ کی ڈاکٹر جین ایپل بی نے بتایا کہ اس نوجوان نے موت سے قبل نرس کو دیکھا اور کہا کہ مجھے لگتا ہے میں نے غلطی کر دی ہے، میں اسے جھوٹ سمجھتا رہا لیکن ایسا نہیں تھا۔
کورونا ویکسین کے متعلق مقبول ہوتے سازشی نظریات کی حقیقت کیا ہے؟
برطانیہ میں بڑی تعداد میں لوگ کورونا کو ایک افسانہ سمجھتے ہیں، نئی تحقیق
انہوں نے رندھی ہوئی آواز میں بتایا کہ اس نوجوان نے ایک ایسی محفل میں جان بوجھ کر حصہ لیا تھا جس کا میزبان کورونا کا مریض تھا، وہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ یہ وائرس ایک گھڑی ہوئی کہانی ہے۔
ڈاکٹر جین نے بتایا کہ جس شخص نے یہ محفل سجائی تھی وہ خود بھی کورونا کا مریض تھا اور وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا یہ وائرس حقیقی ہے اور کیا واقعی لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وائرس کوئی امتیاز نہیں کرتا اور ہم میں سے کوئی بھی اس سے زیادہ طاقتور نہیں ہے، میں خوف نہیں پھیلانا چاہتی لیکن ہمیں حقیقی واقعات بتانے چاہئیں تاکہ لوگوں کو احساس ہو کہ یہ وبا کسقدر خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والی ہے۔
ٹیکساس میں جون کے وسط سے کورونا کیسز میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، ریاست میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں اور اموات کی تعداد 3100 تک پہنچ چکی ہے۔
ریاست کے گورنر گریگ ایبٹ نے شہریوں کو ماسک پہننے کا حکم جاری کیا ہے، انہیں لون اسٹار کو جلدی کھولنے کے باعث شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔