سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کرائی ہے۔ کورانا وبا سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر لیے گئے سوموٹو کیس کی گزشتہ سماعت پر عدالت نے سول ایوی ایشن سے رپورٹ طلب کی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب پائلٹس کو لائسنس لینے کیلئے 8 مخلتف پیپرز دینا ہونگے اور امتحان لینے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے سمیت جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے گا، کمرشل پائلٹ لائسنس کیلئے 200 گھنٹے جہاز اڑانے کا تجربہ اور 3 گھنٹے فلائیٹ ٹیسٹ لیا جائے گا، ایئر ٹرانسپورٹ لائسنس کیلئے 1500 گھنٹے جہاز اڑانے اور 4 گھنٹے فلائیٹ ٹیسٹ لیا لازمی ہوگا۔
رپورٹ پائلٹس کے جعلی لائسنس اور ڈگریوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے کے پاس کل 450 پائلٹس ہیں، پی آئی اے سمیت دیگر نجی ایئر لائنز کے کل 1934 پائلٹس کو لائسنس جاری کیے، 16 مشتبہ ڈگری والے پائلٹس میں سے 8 کو معطل کیا گیا۔
سی اے اے کے مطابق بورڈ آف انکوائری نے 262 پائلٹس کے مشتبہ لائسنس کی نشاندہی کی، جعلی لائسنس والے پائلٹس نے ریکارڈ میں ردو بدل سمیت امتحان میں حصہ نہیں لیا تھا، 54 جعلی لائسنس والے پائلٹس کا لائسنس معطل کر کے دوبارہ تصدیق کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کے 141، سیرین کے 10 اور ایئر بلیو کے 9 پائلٹس گراؤنڈ کیے گئے، پی آئی اے،ایئر بلیو اور سیرین کے علاوہ 102 دیگر پائلٹس گراؤنڈ کیے گئے، پی آئی اے کے 6 اور شاہین ایئر لائن کے 2 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں، چند پائلٹس نے ایف اے اور او لیول کی جعلی ڈگری جمع کرا رکھی تھی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو 54 میں سے 28 پائلٹس کا لائسنس منسوخ کرنے کی سمری بھیج دی ہے، 208 مشتبہ لائسنس والے پائلٹس میں سے 34 کو معطلی کے احکامات جاری ہو چکے، مستقبل میں جعلی لائسنس سے بچنے اور بائیو میٹرک تصدیق کیلئے نادرا کو درخواست بھیج دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمرشل اور ایئر ٹرانسپورٹ لائسنس کیلیے ہائیر سیکنڈری، ایف اے اور ایف ایس سے تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے۔
نجی ایئرلائن ائیربلو نے بھی پائلیٹس کے مبینہ جعلی لائسنس سے متعلق رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشتبہ لائسنس یافتہ 9 میں سے 7 پائیلٹس ائیر بلیو کو 2014 اور 2015 میں چھوڑ گئے، 2018 اور 2019 میں ائیر بلیو کے 100 پائلیٹس میں 98 کے لائسنس درست نکلے اور اب تک ائیر بلیو کے موجودہ 85 پائلیٹس کے لائنس درست ہیں۔
