وائلڈ لائف کے نمائندے نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بتایا ہے کہ کاون ہاتھی کو کمبوڈیا بیجھنے کا فیصلہ کیا گیا کیوں کہ اس پر ہمیں کم خرچ کرنا پڑے گا۔
عدالتی احکامات کے باوجود چڑیا گھر سے جانوروں کی عدم منتقلی کے کیس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نمائندہ وائلڈ لائف سے استفسار کیا کہ کیا آپکی میٹنگ ہوگئی ہے اور فیصلہ کیا ہوا؟
انہوں نے جواب میں بتایا کہ میٹنگ میں کاوان ہاتھی کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، نیپال، سری لنکا اور کمبوڈیا کے نام فائنل تھے تاہم آخری فیصلہ کمبوڈیا کے حق میں کیا گیا۔
ڈائرکٹر جنرل وائلڈ لائف نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو ویزہ کیلئے خط لکھا گیا ہے، ایڈیشنل سیکرٹری ماحولیات نے بتایا کہ وائلڈ لائف نے ہمیں ویزے کیلئے لکھا ہے اور ہم وزارت خارجہ کو لکھیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہمیں ان تمام پراسسز سے گزرنے کیلئے 4 ہفتے لگیں گے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ دنیا کی نظریں اس عدالتی فیصلے پر ہیں۔
نمائندہ وائلڈ لائف نے کہا کہ مرغزار چڑیا گھر کے باقی جانوروں کو سینکچریز منتقل کرنے کی تیاری مکمل ہو گئی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی اس معاملے میں خصوصی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چڑیا گھر بادشاہی نظام کی علامت ہے، پرانے وقتوں میں بادشاہ چڑیا گھروں کا استعمال اپنی طاقت دکھانے کیلئے کرتے تھے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انسان کی طاقت کمزوروں کی حفاظت کرنا ہے، ان کو ختم کرنا نہیں، انسانوں کو جانوروں کے رہنے کے ماحول کی حفاظت کرنا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جانور ناپید نہیں ہو رہے، انسان ہو رہے ہیں، اگر انسانوں نے ناپید ہونے سے بچنا ہے تو جانوروں کے رہنے کے ماحول کی حفاظت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو معاملے پر دلچسپی لینے پر سراہتا ہوں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مگرمچھ کے متعلق بھی دریافت کیا جس پر ڈی جی وائلڈ لائف نے کہا کہ آج ہی مگر مچھ کو بھیجا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مگر مچھ آپ کو بہت ساری دعائیں دیں گے، چڑیا گھر کے جانوروں حوالے سے تفصیلی آرڈر جاری کروں گا۔
بعد ازاں عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
عدالتی فیصلے پر بہت سی اہم شخصیات نے مسرت کا اظہار کیا۔
واضح رہے کہ 2 سال قبل سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور عامر متین نے 92 نیوز کے پروگرام مقابل میں خبر بریک کی تھی اور ہاتھی کی حالت زار پر متعدد پروگرام کیے گئے۔
سینیٹرز بھی کاون کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتے رہے، وزراء سے بھی ملاقاتیں کی گئیں۔
میئر اسلام آباد انصر شیخ کو بار بار گزارش کی گئی، مارک کے ساتھ میٹنگ کے دوران انصر شیخ نے کاون کو قدرتی پناہ گاہ بھیجنے پر اپنی آمادگی بھی ظاہر کی تھی لیکن اس کے بعد کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی تھی۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری کے ساتھ بھی کاون کی آزادی کے لیے ملاقات کی گئی، وعدے سب کی طرف سے ہوئے مگر کسی نے آگے بڑھ کے ساتھ دیا نہ ہی مدد فراہم کی۔
اس دوران فری فار کاون کی تحریک چلی، سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے کاون کو آزاد کر کے بھیجنے کے احکامات بھی دیے مگر کسی نے عمل نہ کیا۔
فری فار کاون کی تحریک دنیا بھر میں چل رہی ہے۔ فری دی وائلڈ نامی عالمی این جی او کے سربراہ ’مارک کون‘ اسلام آباد چڑیا گھر میں موجود ہاتھی کاون کی آزادی کے لئے کوشاں رہے۔
کاون آیا کہاں سے؟
ماہرین کے مطابق 34 سالہ ہاتھی کاون ذہنی بیماری کا شکار ہے۔ عمران خان نے 2015ء میں اس کی رہائی کے حق میں ٹویٹ کی تھی، امریکی گلوکارہ شر کی سمیت عالمی ستاروں نے بھی کاون کی رہائی کا کہا تھا۔
مارک کون کے مطابق چڑیا گھر کی انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ہتھنی 2012ء میں مر چکی ہے اور کاون اس وقت شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاون اپنی زندگی کے 36 سال قید میں گزار چکا ہے، اس کی منتقلی کے تمام اخراجات فری دی وائلڈ برداشت کرے گی۔
مارک کون کا مزید کہنا تھا کہ لوگوں میں شعور پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں چڑیا گھر ختم ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں ہاتھی کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں ہو رہی ہے اور کمبو ڈیا وائلڈ لائف پارک ’کاون‘ کو وصول کرنے کے لئے تیار ہے۔
مارک کا کہنا تھا کہ کاون کی رہائی کے بدلے اسلام آباد چڑیا گھر کی انتظامیہ کو عالمی معیار کی ٹریننگ دینے کا اعلان کرتے ہیں۔
انہوں نے کاون کی رہائی کے بدلے چڑیا گھر کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاون کی رہائی کے بدلے عالمی معیار کا تھری ڈی ہولو گرافک چڑیا گھر بنا کر دے سکتے ہیں۔
سری لنکا کی حکومت نے یہ ہاتھی 1985 میں پاکستانی حکومت کو تحفے میں دیا تھا، 2002 میں اسے زنجیروں میں جکڑ دیا گیا تھا۔
کورونا کی وجہ سے دنیا بھر میں قیدیوں کو بھی وقتی طور پر آزاد کرنے کے فیصلوں پر غور کیا جا رہا ہے۔