• Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
جمعرات, اپریل 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Rauf Klasra
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
  • Home
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • انتخاب
  • دنیا
  • کورونا وائرس
  • کھیل
  • ٹیکنالوجی
  • معیشت
  • انٹرٹینمنٹ
No Result
View All Result
Rauf Klasra
No Result
View All Result
Home انتخاب

سپریم کورٹ نے روزویلٹ ہوٹل سمیت پی آئی اے کو اثاثے فروخت کرنے سے روک دیا

by sohail
جولائی 21, 2020
in انتخاب, پاکستان, تازہ ترین
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ پی آئی اے عدالت کی اجازت کے بغیر اپنا کوئی بھی اثاثہ فروخت نہیں کر سکے گی۔

اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ روزویلٹ ہوٹل سمیت پی آئی اے کا کوئی اثاثہ عدالت کی اجازت کے بغیر  فروخت نہیں ہوسکتا۔

سماعت کی تفصیل

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ڈی جی سول ایوی ایشن سے کہا کہ پوری دنیا میں جعلی لائسنس کا اسکینڈل مشہور ہوا ہے، کیا سول ایوی ایشن اتھارٹی کے کسی افسر کے خلاف کارروائی کی گئی ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں تمام برائیاں ایئرپورٹ سے آتی ہیں۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ ہم ادارے میں اصلاحات لا رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں کہیں بھی اصلاحات نظر نہیں آ رہیں۔

انہوں نے ڈی جی سی اے اے سے کہا کہ آپ اس عہدے کے اہل نہیں، سی اے اے چلانا آپ کے بس کی بات نہیں، عملی کام کیا ہے تو جواب دیں، ہم تقریر نہیں سنیں گے۔

سی اے اے کے کمپیوٹر کیوں بند ہوئے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ پائلٹ کو لائسنس دیتے وقت سی اے اے کے تمام کمپیوٹر بند ہو گئے، آپ نے عوام کی زندگیاں داؤ پر لگا دی ہیں، سی اے اے کے کسی افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ بھیانک جرم کرنے اور کرانے والے آرام سے تنخواہیں لے رہے ہیں، بدنامی میں پاکستان زمین کی تہہ تک پہنچ چکا ہے، پاکستان کو دنیا کا کرپٹ ترین ملک کہا جاتا ہے۔

ڈی جی سول ایوی ایشن نے اس موقع پر کہا کہ فرانزک آڈٹ کے مطابق 262 لائسنس جعلی ہیں، 28 لائسنس مسنوخ کرکے 189 کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فرانزک آڈٹ تھرڈ پارٹی سے 2010 سے 2018 تک کرایا گیا کیونکہ کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا 2010 سے شروع ہوا، پی آئی اے کے 31 جہاز اور 450 پائلٹ ہیں، دنیا کی 10 ایئر لائینز میں 176 پاکستانی پائلٹ کام کررہے ہیں۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 2018 میں عدالت نے لائسنس چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سول ایوی ایشن کا تمام عملہ سمجھوتہ کر چکا ہے، ادارے کے تمام افسران کو ان کا حصہ پہنچ رہا ہوتا یے، جعلی لائسنس دینے والے تمام افسران کو برطرف کریں۔

انہوں نے کہا کہ جعلی لائسنس پر دستخط کرنے والے جیل جائیں گے، حکومت کی منظوری سے ایف آئی اے کو معاملہ بھجوائیں گے۔

ایک موقع پر چیف جسٹس کا ڈی جی سی اے اے سے مکالمہ ہوا، انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ مضبوط آدمی ہیں، ڈی جی نے جواب میں کہا کہ انشاء اللہ میں مضبوط آدمی ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپکا انشااللہ عملی طور پر نظر نہیں آرہا۔

 جسٹس عمر عطا بندیال نے دریافت کیا کہ کمپیوٹر تک غیر قانونی رسائی کے معاملے پر کیا کارروائی ہوئی، مئی میں حادثہ ہوا، اب تک صرف چٹھی بازی ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی حادثے کے پائلٹ کو لائسنس 1990 میں جاری ہوا تھا، 2010 سے پہلے جاری لائسنس کا کیا کریں گے؟ اب فوری طور پر عملی اقدامات کا وقت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاز کا پائلٹ تین سو بندوں کی ذمہ داری چھوڑ کر کررونا پر گفتگو کررہا تھا، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کو رات کو نیند کیسے آ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کو تو کام کام اور صرف کام کرکے نتائج دینے چاہئیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پاکستان کے علاوہ کتنے ممالک میں جعلی لائسنس نکلے؟ سیاسی مداخلت ہے یا پائلٹ اتنے بااثر ہیں کہ ایکشن نہیں ہو رہا، پوری دنیا میں سول ایوی ایشن نے ملک کو بدنام کیا۔

ایم ڈی پی آئی اے ارشد محمود ملک بھی عدالت میں پیش

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ایم ڈی ارشد محمود ملک بھی عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ جعلی ڈگری والے 750 ملازمین کو نکالا ہے اور ان بھرتیوں میں ملوث افراد کو بھی نکالا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ لوگوں نے پی آئی اے پر سفر کرنا چھوڑ دیا ہے، اس پر ارشد ملک نے بتایا کہ پی آئی اے میں 141 جعلی لائسنس والے پائلٹس نکلے، ان میں سے 15 پائلٹس کو برطرف کیا گیا ہے۔

 جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ پی آئی اے کو 450 پائلٹس کی ضرورت ہی کیوں ہے؟

اس موقع پر چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ کیا آپ کو پائلٹس برطرف کرنے کا اختیار ہے، ارشد ملک نے جواب میں کہا کہ بدقسمتی سے قانون نے میرے ہاتھ باندھے ہوئے ہیں، میں پائلٹس کو صرف معطل کر سکتا ہوں، برطرف سول ایوی ایشن کرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ مسئلے کا حل نہیں کہ 500 ملازم نکال کر اتنے ہی بھرتی کر لیں، ایم ڈی پی آئی اے نے جواب میں بتایا کہ پی آئی اے کا 50 فیصد عملہ نکال رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گلشن جناح میں پی آئی اے پلاٹ پر آج بھی شادی ہال بنا ہوا ہے، اسے نہ گرایا گیا تو توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔

اس موقع پر عدالت نے کہا کہ سول ایوی ایشن کے کمپیوٹر محفوظ نہیں، اس میں ہونے والا کوئی کام محفوظ نہیں رہا۔

عدالت نے حکم دیا کہ جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کے خلاف کارروائی فوری مکمل کی جائے اور یہ لائسنس جاری کرنے والے افسران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔

عدالت نے سول ایوی ایشن اور پی آئی اے کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتے میں کارروائی پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

Tags: ارشد محمود ملکایم ڈی پی آئی اےپائلٹس کی مشکوک ڈگریاںپاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنزسپریم کورٹ آف پاکستانسول ایوی ایشن اتھارٹی
sohail

sohail

Next Post

معروف صحافی مطیع اللہ جان اسلام آباد سے لاپتہ

پی ٹی ڈی سی سے 400 ملازمین کی برطرفی کے بعد زلفی بخاری کا نئی بھرتیوں کا اعلان

مطیع اللہ جان بازیابی کیس میں چیف کمشنر، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ طلب

فاکس نیوز کے سابق اینکر ایڈ ہنری کے خلاف خاتون ملازم کا جنسی زیادتی کا الزام

علی سلمان علوی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • About
  • Advertise
  • Careers
  • Contact

© 2024 Raufklasra.com

No Result
View All Result
  • Home
  • Politics
  • World
  • Business
  • Science
  • National
  • Entertainment
  • Gaming
  • Movie
  • Music
  • Sports
  • Fashion
  • Lifestyle
  • Travel
  • Tech
  • Health
  • Food

© 2024 Raufklasra.com

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In