اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی ڈی سی ملازمین کی برطرفی اور بورڈ کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت وزیراعظم نے پی ٹی ڈی سی بورڈ تشکیل دیا ہے؟
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ ڈویژن نے پہلے جواب میں ترمیم کرکے نیا جواب جمع کرایا ہے، اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ایسے نہیں ہوتا کہ آپ کہیں پہلے غلطی ہو گئی اب تصیح کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ایک کیس میں یہی غلطی کی، یہ کیسے ممکن ہے پھر غلطی ہو جائے، اب بتائیں بورڈ کس نے تشکیل دیا؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم نے پی ٹی ڈی سی بورڈ تشکیل دیا ہے، جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ قانون بتا دیں جس کے تحت بورڈ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے دریافت کیا کہ سیاحت صوبائی معاملہ ہے یا وفاق کا ؟ جو معاملہ وفاق کا ہے ہی نہیں، کیا اس پر وزارت بنائی جا سکتی ہے؟
ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے جواب میں کہا کہ ایسی صورت میں کوئی وزارت نہیں بنائی جا سکتی جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب یہ صوبائی معاملہ ہے وفاق اس میں کیوں آ رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ عدالتوں سمیت ہر کسی نے قانون آئین کے تحت کام کرنا ہوتا ہے، وزیراعظم کو اس بورڈ کی تشکیل کے لیے کس نے رائے دی؟ ملک میں آئین ہے اس سے اوپر کچھ نہیں۔
نیشنل ٹورزم کوآرڈی نیشن بورڈ اور برطرف ملازمین کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے، بعد ازاں عدالت نے فریقین سے دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔