چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں بجلی لوڈ شیڈنگ اور کرنٹ سے ہلاکتوں سمیت دیگر معاملات پر سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ کرنٹ سے ہونے والی ہلاکتوں کے مقدمات میں سی ای او کے الیکٹرک کا نام شامل کیا جائے۔
انہوں نے کے الیکٹرک کی تمام انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک ایک منٹ کی بجلی کی تقسیم پر نظر رکھیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پیسہ یہ ہم سے 100 گنا لیتے ہیں اور مواد سستا لگایا ہے، آپ بھاشن دیتے ہیں، قوم نے اعتماد کیا آپ نے یہ صلہ دیا؟
انہوں نے کہا کہ بھارت میں بورڈ ہے جو ایسی صورت حال میں ٹیک اوور کر لیتا ہے۔
چیئرمین نیپرا نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں قانونی طور پر تحقیقات کی اجازت مل گئی ہے، ہم کے الیکٹرک کا از سر نو جائزہ لیں کے، ہم کے الیکٹرک کو 200 ملین تک کا جرمانہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کے الیکٹرک کا مکمل آڈٹ کریں گے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنے ادارے کا بھی آڈٹ کرا لیں۔
کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں پیش ہوئے جہاں چیف جسٹس نے ان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ صرف باتیں کرتے ہیں، کام نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کا آڈٹ ہونا چاہیے، پتہ چلے کیا کمایا اور کیا حاصل کیا، سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔
کے الیکٹرک کے وکیل عابد زبیری نے عدالت کو کہا کہ لوڈ شیڈنگ کی سب سے بڑی وجہ بجلی چوری ہے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ کیا آپ یہ بتانے آئے ہیں کہ لوڈ شیڈنگ چوری کی وجہ سے ہو رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اب تک بجلی چوروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
انہوں نے کہا کہ ابھی کے الیکٹرک کا لائسنس معطل کرتا ہوں، چیئرمین نیپرا بتائے کہ اس کا متبادل کیا ہے؟
چیئرمین نیپرا نے کہا کہ میں صورت حال دیکھ کر عدالت کو آگاہ کر سکتا ہوں، چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ لوگ کےالیکٹرک کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے؟
چیئرمین نیپرا نے جواب میں کہا کہ ہم کارروائی کرتے ہیں لیکن کے الیکٹرک نے اسٹے حاصل کر رکھے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سارا ریکارڈ لے کر آئیں ہم اسٹے ختم کر دیتے ہیں۔