نیوزی لینڈ کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ کو بند کر رہی ہے کیونکہ شہر میں 102 روز کے بعد کورونا کے نئے کیسز سامنے آ گئے ہیں۔
نیوزی لینڈ کی کورونا وائرس پر قابو پانے کی دنیا بھر میں تعریف و تحسین ہوئی تھی اور 50 لاکھ افراد پر مشتمل اس ملک کو محفوظ ترین مقام قرار دیا گیا تھا۔
ڈائرکٹر جنرل ہیلتھ ایشلے بلوم فیلڈ نے کہا ہے کہ جنوبی آکلینڈ کے ایک خاندان میں کورونا کے 4 مریض سامنے آ گئے ہیں جن میں سے ایک شخص کی عمر 50 برس سے زائد ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خاندان کے تمام افراد کو ٹیسٹ کیا گیا ہے اور کانٹیکٹ ٹریسنگ جاری ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کا اندازہ کیا جا سکے۔
اس خبر کے بعد ملک میں افراتفری پھیل گئی ہے اور لوگ بڑی تعداد میں سپرمارکیٹس سے خریداری کے لیے نکل رہے ہیں جبکہ کاروبار بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
وزیراعظم جسیندا آرڈرن کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر بدھ سے آک لینڈ پر لیول 3 کی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی جس کے بعد لوگ اسکول اور کاروبار پر نہیں جا پائیں گے اور 10 افراد سے زائد کا اجتماع نہیں کیا جا سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں 3 روز کے لیے ہوں گی اور جمعہ تک صورتحال کا اندازہ ہو جائے گا، اس دوران کانٹیکٹ ٹریسنگ کے ذریعے وبا کے پھیلاؤ کے متعلق بھی معلومات اکٹھی کر لی جائیں گی۔
یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں 19 ستمبر کو عام انتخابات ہونے ہیں جس میں مختلف سرویز کے مطابق جسینڈا آرڈرن واضح طور پر جیتتی دکھائی دے رہی ہیں تاہم وائرس کی واپسی حکومت کے لیے ایک خطرناک بات ثابت ہو سکتی ہے۔