سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی کی حالت زار، تجاوزات اور نالوں کی صفائی کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، کراچی میں مافیا آپریٹ کر رہی ہے جبکہ حکمران صرف مزے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کراچی کے تمام نالوں کی صفائی کا کام نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم بینچ نے ناجائز تجاوزات اور دیر مسائل پر سماعت کی۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، کمشنر کراچی افتخار شلوانی، سندھ اور شہری حکومت کے نمائندے اور دیگر حکام اس موقع پر پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ شہر بھر میں 38 بڑے نالے اور 514 چھوٹے نالے ہیں، لوگ 10 سالوں نے نالوں پر رہ رہے ہیں، انہوں نے نالوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی جس پر سپریم کورٹ نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں آپ نے کچھ نہیں کیا، سندھ اور شہری حکومتیں کچھ نہیں کر رہیں۔ آپ نے پورے کراچی کو گوٹھ بنا دیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم ناجائز تجاوزات کے خلاف جاتے ہیں تو لوگ مارنا شروع ہو جاتے ہیں اور امن و عامہ کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہی تو حکومت کی رٹ ہے۔ شہر میں گٹر کا پانی بھرا ہوا ہے، لوگ پتھر رکھ کر اس پر چلتے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ ہم دو تین ماہ میں نالوں سے تجاوزات ختم کر دیں گے، 2 ماہ میں حاجی لیموں گوٹھ کلیئر ہو جائے گا، یہ ہماری آپ کے ساتھ کمٹمنٹ ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کئی سالوں سے آپ حکومت کر رہے ہیں، آپ کی لوگوں کے ساتھ کمٹمنٹ ہونی چاہیئے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہے، حکمران صرف مزے کر رہے ہیں، شہر میں مافیا آپریٹ کر رہی ہے، پوری حکومتی مشینری ملوث ہے، افسر شاہی بھی ساتھ ملی ہوئی ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی دستاویزات کو رجسٹرڈ کر لیا جاتا ہے، رجسٹرار آفس میں پیسہ چلتا ہے، کچھ پتا نہیں کس کی جائیداد کس کے نام رجسٹر ہو گئی، کل کو وہ مرے گا تو بچوں کو علم ہو گا کہ جائیداد پر قبضہ ہو چکا ہے۔
بینچ کے رکن جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ دنیا بھر میں لوگوں کی حکمرانی ہوتی ہے کیونکہ وہ ووٹ دیتے ہیں۔
عدالت نے این ڈی ایم اے کو کراچی کے نالوں کی صفائی، تجاوزات اور دیر مسائل دیکھنے کی ہدایت کر دی، صوبائی حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ این ڈی ایم اے کو مدد فراہم کرے۔
چیف جسٹس نے شاہراہ فیصل پر 14 اگست کے حوالے سے لگے ہوئے سائن بورڈز کو ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ کڈنی ہل پارک میں قائم مسجد اور مزار کی پیمائش کی ہدایت بھی کی ہے، عدالت نے کمشنر کراچی کو کڈنی ہل پارک سے تمام تجاوزات کے خاتمے کا حکم دے دیا۔