فیس بک پر گستاخانہ پوسٹ کے باعث بھارت کے شہر بنگلور میں ہنگامے پھوٹ پڑے، پولیس کی فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے۔
کانگریس کے رہنما سری نواس مرتھی کے بھتیجے نے فیس بک پر پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق ایک گستاخانہ پوسٹ لگائی جس پر مشتعل عوام نے اس کے گھر کا گھیراؤ کر لیا اور اسے آگ لگا دی۔
مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی اور موقع پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا، پولیس نے گستاخانہ پوسٹ لگانے والے شخص کو اور 110 مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
بنگلور کے کمشنر کمال پنت نے بتایا کہ ہنگاموں میں کم از کم 60 پولیس والے زخمی ہو گئے ہیں، شہر کے دو علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ فیس بک پوسٹ بھی ڈیلیٹ کر دی گئی ہے۔
شہر کی پولیس نے ٹویٹ پر بتایا کہ آنسو گیس سے مظاہرین منتشر نہ ہوئے تو پولیس کو ان پر گولی چلانا پڑی، پولیس کے مطابق صورتحال قابو میں ہے۔
بنگلور کے وزیر نے مسلمانوں سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار شخص کو سزا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی، ہم آپس میں بھائی ہیں، میں آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔
پولیس کے مطابق پرتشدد مظاہروں کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اور ملزمان کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد لی جارہی ہے۔