قومی احتساب بیورو (نیب) نے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کے ضمانت کیس میں نظرثانی درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ دونوں بھائیوں کو ضمانت دینے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور فیصلے کے پیراگراف نمبر 18 سے 48 اور 56 سے 70 پر نظرثانی کی جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مذکورہ پیراگرافس میں نیب کے خلاف سنگین نوعیت کے ریمارکس اور آبزرویشنز دی تھیں۔
نیب نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ فیصلے میں دیے گئے بعض ریمارکس ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو متاثر کریں گے، ان ریمارکس کی روشنی میں ٹرائل کورٹ کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوگا۔
نیب نے استدعا کی ہے کہ فیصلے میں وعدہ معاف گواہ قیصر امین بٹ کے خلاف سخت ریمارکس سپریم کورٹ کے اپنے ہی دیے گئے ایک فیصلے کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔
نیب نے درخواست میں مزید کہا ہے کہ وعدہ معاف گواہ کے حوالے سے نیب آرڈیننس کی شق 26 اور ضابطہ فوجداری میں فرق کو مدنظر نہیں رکھا گیا، نیب آرڈیننس ایک خصوصی قانون ہے جو ملک میں رائج عمومی قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔
درخواست کے مطابق ضابطہ فوجداری کے تحت وعدہ معاف گواہ کا اختیار ٹرائل شروع ہونے کے بعد استعمال نہیں کیا جا سکتا لیکن نیب قانون میں ایسا ہو سکتا ہے۔
نیب کا موقف ہے کہ وعدہ معاف گواہ نے رضاکارانہ طور پر بیان دیا، اس کا بیان حقائق پر مبنی ہے جسے عدالت میں ثابت بھی کیا جائے گا۔
نیب نے استدعا کی ہے کہ فیصلے میں دیے گئے عدالتی ریمارکس اس تمام قانونی کارروائی کے لیے نقصان دہ ہیں، وعدہ معاف گواہ سے جبراً بیان لیے جانے کی کوئی کوئی شہادت موجود نہیں۔
نیب نے درخواست میں کہا ہے کہ وعدہ معاف گواہ نے خود بھی جبراً بیان لیے جانے کا کوئی الزام نہیں لگایا، عدالت وعدہ معاف گواہ سے متعلق اپنے ریمارکس کو فیصلے سے حذف کرے۔
اپنی درخواست میں نیب کا کہنا ہے کہ وکیل مخالف کو وعدہ معاف گواہ پر ٹرائل کے دوران جرح کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا، درحقیقت ملزم نے ایسا ماحول پیدا کیا کہ وعدہ معاف گواہ سے زبردستی بیان لیا گیا۔
نیب کے مطابق ملزمان کی جانب سے عدالت میں شور شرابہ کر کے سماعت ملتوی کرائی گئی تاہم استغاثہ اپنے موقف پر قائم رہا اور انکوائری پرسکون انداز میں مکمل ہوئی۔